قرآنی صیغہ
کُلَا
· آیت پارہ نمبر 1 ، سورہ البقرہ ، آیت نمبر 35 · پارہ 1
- پارہ
- 1
- آیت
- پارہ نمبر 1 ، سورہ البقرہ ، آیت نمبر 35
- اصل صورت
- اُءْکُلَا بروزن اُنْصُرَا
- اصلی حروف
- ء ، ک ، ل
- صیغہ
- تثنیہ مذکر حاضر
- مصدری معنی
- کھانا
- باب
- نَصَرَ یَنْصُرُ
- سہ اقسام
- فعل امر حاضر معروف
- شش اقسام
- ثلاثی مجرد
- ہفت اقسام
- مہموز الفاء
- قاعدہ
- اس میں دو قول ہیں: پہلا قول تو یہ ہے کہ اہل صرف کے نزدیک دوسرے ہمزہ کو کثرت استعمال کی وجہ سے گرا دیا تو شروع میں ہمزہ وصلیہ کی ضرورت نہ رہی تو کُلَا ہوگیا۔ جبکہ دوسرا قول صاحب علم الصیغہ کا ہے وہ فرماتے ہیں کہ یہاں پہ قلب مکانی ہوئی یعنی: فاء کلمہ کو عین کلمہ کی جگہ اور عین کلمہ کو فاء کلمہ کی جگہ لے گئے تو اُکْؤُلَا ہوا پھر یَسْئَلُ والے قاعدے کے تحت ہمزہ کی حرکت ماقبل کو دے کر ہمزہ کو گرا دیا اور ہمزہ وصلیہ کی ضرورت نہ رہی تو وہ بھی گر گیا تو کُلَا ہوگیا۔