قرآنی صیغہ

ءَاتَوْهُ

يوسف · آیت 66 · پارہ 13

پارہ
13
آیت
66
سورہ
يوسف
اصل صورت
أَءْتَیَوْہ
اصلی حروف
أ،ت،ی
صیغہ
جمع مذکر غائب
مصدری معنی
دینا
باب
اِفْعَالٌ
سہ اقسام
فعل ماضی مطلق مثبت معروف
شش اقسام
ثلاثی مزید فیہ
ہفت اقسام
مہموز الفاء,ناقص یائی
قاعدہ
واو یا یاء متحرک ماقبل مفتوح کو الف سے بدلنا واجب ہے پھر أَءْتَاوْ ہوا پھر اجتماع ساکنین کی وجہ سے الف ساقط ہوگیا باقی رہا أَأْتَوْہ پھر قاعدہ لگا کہ دو ہمزہ ایک ساتھ ہوں جن میں سے ایک ساکن ہو تو ایک کا دوسرے میں ادغام کرنا واجب ہے پھر أٰتوہ ہوگیا

پارہ 13 کے مزید صیغے

اسی پارہ سے مزید قرآنی صیغے دیکھیں