متعلقہ سوالات
صرف
1
اتقوا (ت پر تشديد اور زبر ہے) اس کی صرفی تحقیق ؟
9 ستمبر، 2024Mustaqeem 
جواب دہندہ
اگر قاف پر پیش ہو تو
صیغہ جمع مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ لفیف مفروق از باب افتعال
اصل میں اوتقِیُوا تھا
فائدہ
"اِتَّصَلَ" اصل میں "اِوْتَصَلَ" تھا (واوساکن ماقبل مکسور) مگر اس میں واو کو یاء سے نہیں بدلا گیا؛ اس لیے کہ وہ "اِفْتِعَالٌ" کا فاء کلمہ ہے، اسی طرح اِجْلِوَّاذٌ میں واو ساکن کو یاء سے نہیں بدلا جاتا کیونکہ وہ مدغم ہے
اس قاعدے کے تحت واو کو تاء سے بدل کر تاء کا تاء میں ادغام کیا
قاعدہ
اگر لام کلمہ میں یا مضموم ہو اور اس کا ماقبل مکسور ہو اور اس کے بعد واو جمع ہو تو اس کی حرکت ماقبل کی طرف نقل کر کے یاء کواجتماع ساکنین کی وجہ سے حذف کر دیتے ہیں
پھر اس قاعدے کے تحت یاء کی حرکت قاف کو دیکر یاء کو حذف کر دیا تو اِتَّقُوا ہوگیا
اگر قاف پر زبر ہو تو
صیغہ جمع مذکر غائب ( بقیہ صرفی تحقیق اوپر والی ہے )
اصل میں اوتقَیُوا تھا واو کو تاء سے بدلنے کا قاعدہ اوپر آپ نے دیکھا ہے
بقیہ
یاء متحرک ما قبل مفتوح تھا یاء کو الف سے بدل کر اجتماع ساکنین سے گرایا تو
اتَّقَوا ہوگیا