صرف
1
اسلام علیکم صمتُ روزہ معنی میں سِرتَ سیر کے معنی میں ان میں کیا تعلیل ہوئ براۓ مدینہ بتا دیجۓ
23 اگست، 2025بنت بشیر احمد 
شہزاد عابد
راجن پور،روجھان
صمت اصل میں صَوَمْتُ تھا اور سِرتُ اصل میں سَیَرتُ تھا
ان دونوں صیغوں میں یاء اور واؤ متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا پھر الف اور اس کے بعد والا حرف ساکن تھے اجتماع ساکنین کی وجہ سے الف کو گرایا تو صَمت اور سَرت ہوگئے
اب مندرجہ ذیل قاعدہ جاری ہوا
قاعدہ
جب اجوف کی ماضی معروف یا مجہول میں عین کلمہ اجتماع ساکنین کی وجہ سے گر جائے تو فاء کلمہ کو ضمہ دیا جائے گا (جبکہ اجوف واوی مفتوح العین یا مضموم العین ہو) ورنہ (جبکہ اجوف يائی ہو یا اجوف واوی مکسور العین ہو تو) کسرہ دیں گے
اس قاعدے کے تحت فاء کلمہ کو ضمہ اور کسرہ دیا گیا تو صُمت اور سِرت ہو گئے