نحو
1
اسم فعل اور حرف کی وجہ تسمیہ شرح جامی کی روشنی میں
29 جنوری، 2025Ghulam hussain Ghulam hussain
Kaif Aliraza
کراچی
اسم کی وجہِ تسمیہ:
اسم کو "اسم" اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ "سموٌ" (بلندی) سے ماخوذ ہے۔ یعنی اسم کسی شے کا تعارف کراتا ہے اور اس کو ممتاز کرتا ہے، اسی لیے اسے "اسم" کہا گیا۔ بعض نحویوں کے مطابق یہ "وسم" (علامت) سے لیا گیا ہے کیونکہ اسم کسی چیز کی نشاندہی اور علامت کا کام دیتا ہے۔
فعل کی وجہِ تسمیہ
فعل کو "فعل" اس لیے کہا گیا کیونکہ یہ کسی کام یا واقعے (حدوث) پر دلالت کرتا ہے۔ چونکہ یہ کسی فعل (کام) کے ہونے یا ہونے والے عمل کو ظاہر کرتا ہے، اس لیے اس کا نام "فعل" رکھا گیا۔
حرف کی وجہِ تسمیہ:
حرف کو "حرف" اس لیے کہا گیا کیونکہ یہ کسی کلمے کا جزو ہوتا ہے اور اپنے معنی میں کسی اور کلمے کا محتاج ہوتا ہے۔ عربی میں "حرف" کا مطلب کنارہ یا کنڈا بھی ہوتا ہے، اور چونکہ حروف خود مکمل معنی نہیں دیتے بلکہ دوسرے الفاظ کے ساتھ مل کر جملے کا مفہوم مکمل کرتے ہیں، اس لیے انہیں "حروف" کہا گیا۔