نحو
1
تحذیر کی تعریف مع قوائد
6 جنوری، 2025Mugal Empire
Kaif Aliraza
کراچی
جو اسم فعل محذوف الزم وغیرہ کا مفعول بہ ہوا سے اغراء کہتے ہیں: الصدق (سچ کو لازم پکڑ )
اور جو اسم فعل محذوف بعد، اتَّقِ وغیرہ کا مفعول بہ ہوا سے تحذیر کہتے ہیں: إِيَّاكَ مِنَ الْأَسَدِ ( خود کو شیر سے دور کر ) الطَّرِيقَ الطَّرِيقَ ( راستے سے )
قواعد وفوائد:
1. اغراء دراصل مغربی یہ ہوتا ہے اور تحذیر کبھی مُحَذَر اور کبھی مُحَذَرَ مِنْه ہوتا ہے جیسے اوپر الصدق مغربی بہ ، ایاک محمد راور الطَّرِيق محمد رمنہ ہیں ۔
2 اغراء اور تحذیر کے استعمال کی تین صورتیں ہیں :
ا معطوف علیہ ہوں: الْعَمَلَ وَالْإِحْسَانَ، الْبَرُدَ وَالْحَرَّ. ۲- مکر رہوں:
الصَّبَرَ الصَّبْرَ الشَّرَّ الشَّرَّ. ٣- مفرد ہوں: الْإِحْسَانَ الظُّلُمَ.
ان میں سے پہلی دوصورتوں میں ان کے فعل ناصب کو حذف کرنا واجب ہے
اور آخری صورت میں جائز ہے واجب نہیں۔
3. تحذیر کبھی ضمیر منصوب مخاطب ہوتی ہے اسکے بعد محذرمنہ تین طرح آتا ہے:
ا واؤ کے ساتھ: إِيَّاكَ وَالْحَسَدَ. ۲- مِنْ کے ساتھ : إِيَّا كُمَا مِنَ الشَّرِّ.
مصدر مؤول: إِيَّاكُمْ أَنْ تَكْسَلُوا.
ان تینوں صورتوں میں تحذیر کے فعل ناصب کو حذف کرنا واجب ہے