متعلقہ سوالات
نحو
1
جب مؤنث کو تقسیم کیا گیا قیاسی او سماعی میں تو پھر مؤنث کو حقیقی اور غیر حقیقی میں تقسیم کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟کیا ایسے مؤنث اسماء موجود تھے جو نا تو قیاسی تھے اور نا ہی سماعی( کیونکہ تصغیر میں ۃ موجود نہیں تھی)مگر کلام عرب میں وہ اسماء مؤنث مستعمل تھے تو استعمال کا لحاظ رکھا گیا اور حقیقی، غیرحقیقی میں مؤنث کی ایک اور تقسیم ہوی جیسے لفظ اتان کہ یہ نا تو مؤنث قیاسی ہے اور نا ہی سماعی( کیونکہ اسکی تصغیر میں ۃ نہیں )تو اس جیسے الفاظ کی خاطر حقیقی اور غیر حقیقی کی تقسیم سامنے آئی،کیا ایسا ہی ہے ؟
27 دسمبر، 2024وجیھا
جواب دہندہ
مؤنث حقیقی اور غیر حقیقی یا مؤنث سماعی و قیاسی ان چاروں کا مفہوم الگ ہے
مندرجہ ذیل تحریر سے مزید آپ کے اشکالات دور ہوں گے
مذکر وہ اسم جس میں علامت تانیث نا ہو
اسر مؤنث وہ اسم جس میں علامت تانیث موجود ہو یا مقدر ہو
تفصیل
مؤنث کے بارے میں قدرے تفصیل ہے جس کو ہم چند عنوانات کے تحت سمجھیں گے
1 مؤنث کی اقسام
2 علامت
3 وہ اسماء مشتقہ جو انسان مؤنث کی صفات خاصہ ہیں وہ حقیقی ہوں گی یا مجازی
"مؤنث کی اقسام"
مؤنث کی بنیادی طور دو اقسام بنتی ہیں اور آگے انہی دو اقسام کی مزید دو دو قسمیں بنتی ہیں
مؤنث حقیقی وہ مؤنث جس کے مقابل نر جاندار یا وہ مؤنث جس میں ایسے اعضاء ہوں جو مؤنث کے ہوتے ہیں
مؤنث مجازی وہ مؤنث جس کے مقابل نر جاندار نا ہو یا جس میں اعضاءِ مؤنث نا ہوں
پھر ان میں سے ہر ایک کی دو دو اقسام بنتی ہیں
معنوی اور لفظی معنوی کو سماعی اور مؤنث تقدیر بھی کہتے ہیں
مؤنث معنوی سماعی یا تقدیری
وہ مؤنث جس میں علامت تانیث لفظا نا ہو بلکہ مقدر ہو
اور مؤنث لفظی وہ مؤنث لفظ جس میں علامت تانیث لفظا موجود ہو
"نوٹ"
لفظی کے دو معنی ہیں 1 جس میں علامت تانیث لفظی ہو
2 جو مؤنث حقیقی نا ہو بلکہ مجازی ہو
اسی طرح سماعی اور معنوی بھی دو دو معانی میں مستعمل ملتے ہیں
معنوی اور سماعی جو مؤنث حقیقی نا ہوں یا وہ مؤنث جس کا مؤنث ہونا سماع پر موقوف ہو اگرچہ وہ مؤنث حقیقی ہو یا مجازی
"علامت تانیث"
علامت تانیث تین ہیں
1 تاء مربوطہ یا گول تاء
2 الف ممدودہ
3 الف مقصوره
"تاء مربوطہ"
یہ تاء عموما گول ۃ اس طرح لکھی جاتی ہے اور حالت وقف میں ھاء ساکنہ سے بدل جاتی ہے
یہ تاء اکحر صفات پر آتی ہے ان کے
مذکر و مؤنث میں فرق کرنے کے لئے اور اسماء میں کم ہی آتی ہے
جیسے قائم قائمۃ وغیرہ
" الف مقصوره"
جس اسم کے آخر میں الف ہو چاہئے یاء پر لکھا ہو یا بصورت الف
اگر الف چوتھی جگہ یا اس سے آگے ہو تو یاء پر لکھا جائے گا
اور اگر تیسری جگہ ہو مگر یاء سے بدلا ہوا ہو تو یء پر لکھا جائے ورنہ پھر الف کی صورت میں لکھا جائے گا
جیسے مصطفی فتی اور ربا عصا
الف اگر اصلی ہو تو تانیث کے لئے نہیں ہوگا
جیسے اوپر کی مثالوں میں گزرا
لیکن اصلی نا ہو تو پھر تانیث کے لئے ہوگا
اس کی پہچان یوں ہوگی کہ یہ حروف اصلیہ کے بعد تیسری جگہ یا اس کے بعد آئے
"الف ممدودہ"
وہ اسم جس کے آخر میں ھمزہ ما قبل الف ہو اور یہ بھی زائدہ ہوگا اگر اصلی ہو یا کسی حرف سے بدلا ہوا ہو تو یہ مؤنث کی علامت نہیں ہوگی
"صفات مؤنث"
اس میں ایک سوال کیا جاتا ہے کہ لفظ حائض نفساء وغیرہ جو صفات مؤنث کے ساتھ خاص ہیں کیا یہ مؤنث حقیقی ہیں یا مجازی دلیل کے طور پر کہتے ہیں یہ کوئی ذات نہیں بلکہ صفت ہے اور اس صفت کے مقابل کوئی نر جاندار ہی نہیں
جواب
اس کا جواب ایک تمہید پر مشتمل ہے
سب سے پہلے تعریف پر غور کریں کہ مؤنث حقیقی کی تعریف کیا ہے مؤنث حقیقی کی تعریف ما بازائه ذکر من الحیوان
اب یہاں حیوان کی قید لگانے کا مقصد جیسا کہ شارحین کافیہ نے لکھا ہے وہ پودے جن میں مذکر مؤنث کا اعتبار ہوتا ہے ان کو نکالنے کے لیے ہے جیسا کہ کھجور اس میں مذکر و مؤنث ہوتے ہیں
لیکن اگر بفرض محال مان بھی لیا جائے کہ کوئی ایسا جندار ہے جو مؤنث تو ہے لیکن اس کا مذکر نہیں تو وہ بھی مؤنث حقیقی ہی کہلائے گا نا کہ مجازی
اسی وجہ سے علامہ رضی نے تعریف میں انسب ما له فرج کہا ہے
دوسری بات یہ صفات مختصۃ بالنساء ہیں
اور صفات بغیر موصوف کے نہیں پائی جاتیں
تو جب بھی لفظ حائض نفساء حبلی حابل طالق طامث وغیرہ کہے جائیں گے اس وقت ان سے ذات مع الوصف مراد ہوگا تو لہذا جب یہ صفات زات پر دلالت کرتی ہیں تو ذات کے اعتبار سے مؤنث حقیقی کہلائیں گے
اور غایت التحقیق شرح کافیہ میں صراحت حائض طالق جیسے الفاظ کو مؤنث حقیقی میں شمار کیا ہے شہزاد عابد
______________________
کتبه
ابن عابد عفی عنہ ھ
03116050389