Logo
جب مؤنث کو تقسیم کیا گیا قیاسی او سماعی میں تو پھر مؤنث کو حقیقی اور غیر حقیقی میں تقسیم کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟کیا ایسے مؤنث اسماء موجود تھے جو نا تو قیاسی تھے اور نا ہی سماعی( کیونکہ تصغیر میں ۃ موجود نہیں تھی)مگر کلام عرب میں وہ اسماء مؤنث مستعمل تھے تو استعمال کا لحاظ رکھا گیا اور حقیقی، غیرحقیقی میں مؤنث کی ایک اور تقسیم ہوی جیسے لفظ اتان کہ یہ نا تو مؤنث قیاسی ہے اور نا ہی سماعی( کیونکہ اسکی تصغیر میں ۃ نہیں )تو اس جیسے الفاظ کی خاطر حقیقی اور غیر حقیقی کی تقسیم سامنے آئی،کیا ایسا ہی ہے ؟