متعلقہ سوالات
نحو
1
خبر کو مبتدا پر کب مقدم کریں گے شرح جامی کے اعتبار سے اور اس کاعکس
18 جنوری، 2026abdul qadir عبدالقادر عطاری
جواب دہندہ

شرح جامی کے مطابق خبر کو مبتدا پر مقدم کرنا جائز ہے، جب تک کوئی مانع نہ ہو؛ اور بعض مواضع میں واجب ہے۔
1. خبر کی تقدیم واجب (جب):
خبر اسمِ استفہام ہو: أَيْنَ زَيْدٌ؟ (استفہام کو صدارت لازم ہے)۔
مبتدا نکرہ ہو اور خبر ظرف یا جار مجرور ہو: فِي الدَّارِ رَجُلٌ، ورنہ خبر کو صفت سمجھنے کا التباس ہو گا۔
مبتدا میں ایسی ضمیر ہو جو خبر کے کسی جزو کی طرف لوٹے: عَلَى التَّمْرَةِ مِثْلُهَا زُبْدًا۔
خبر محصور ہو: مَا لَنَا إِلَّا اتِّبَاعُ أَحْمَدَ۔
2. خبر کی تقدیم جائز: جب نہ التباس ہو نہ کوئی مانع: قَائِمٌ زَيْدٌ / زَيْدٌ قَائِمٌ۔
3. اس کا عکس: خبر کی تاخیر (مبتدا کی تقدیم) واجب جب:
مبتدا کو صدارت لازم ہو: استفہام (مَنْ أَبُوكَ؟)، شرط (مَنْ يَأْتِنِي فَلَهُ دِرْهَمٌ)، ما تعجبیہ (مَا أَحْسَنَ زَيْدًا)، اور لامِ ابتدا (لَزَيْدٌ قَائِمٌ)۔
مبتدا و خبر دونوں معرفہ یا دونوں نکرہ ہوں اور التباس ہو: زَيْدٌ أَخُوكَ۔