متعلقہ سوالات
نحو
1
سورہ التحریم کی آیت نمبر 1 میں مرضات کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ مضاف بن رہا ہے اور اصل مصدر مرضاة ہے ۔ اسکا مادہ ر ض و باب س سے ہے۔ سوال یہ ہے کہ مرضات واحد ہے یا جمع؟ اور صرف کے لحاظ سے اس میں گول ة کو کھو ل کر پوری ت کیوں لکھا؟
1 مئی، 2025Mehjabeen Dar
جواب دہندہ
یہ لفظ مرضاۃ واحد ہے رضی یرضی کا مصدر ہے
تاء مربوطہ یعنی گول تاء کی جگہ تاء مبسوطہ لکھنا یہ خط کا مسئلہ ہے
اب جو تاء مربوطہ پر ھاء سے وقت کرتے ہیں وہ اسے گول تاء کی صورت میں لکھتے ہیں اور جو تاء کی صورت میں وقف کرتے ہیں وہ اسے تاء مبسوطہ کی صورت میں لکھتے ہیں
اب اس جگہ خاص مرضات لکھنا یہ قراءت ہے