صرف
1
صلۃ اور حالا کی صرفی تحقیق ؟
24 اپریل، 2025Yazdan Yazdan
شہزاد عابد
راجن پور،روجھان
صلۃ صیغہ مصدر ثلاثی مجرد مثال واوی از باب ضرب یضرب
تعلیل : اصل میں یہ وِصْل کے وزن پر تھا
قاعدہ :
مثال واوی کا مصدر اگر فعل کے وزن پر ہو تو اس کے واؤ کو حذف کر کے عین کلمہ کو کسرہ دیتے ہیں ، اور واؤ محذوفہ کے عوض آخر میں ’ۃ‘ کا اضافہ کر دیتے ہیں ہاں اگر مصدر فعل کے وزن پر ہو تو عین کلمہ کو بعض اوقات فتحہ دیتے ہیں
استعمال: قاعدہ کے مطابق واؤ کو حذف کیا ، عین کلمہ جو یہاں صاد ہے کو کسرہ دیا ، اور آخر میں گول تاء کا اضافہ کیا تو "صِلَۃٌ" ہو گیا
حال اسم جامد ثلاثی مجرد اجوف واوی
تعلیل : اصل میں حَوَل تھا۔
قاعدہ : واؤ یاء متحرک ہوں اور ان کا ما قبل مفتوح ہو تو ان کو الف سے بدل دینا واجب ہے۔
استعمال : حَوَل میں واؤ متحرک ہے ، اور ما قبل مفتوح ہے، قاعدہ کے مطابق اسے الف سے تبدیل کیا تو حال ہو گیا