نحو
1
صیغہ صفت کی ترکیب کرتے ہوئے اسے شبہ جملہ کہنے کی وجہ تسمیہ؟ نیز صیغہ صفت کو شبہ فعل کیوں کہتے ہیں؟ کسی عربی کتاب کا حوالہ دیا جائے تو بہت اچھا ہے
27 مئی، 2025mansoor mansoormalik Mansoor 
Abu Sufyan Muhammad Rashid madani
Sadiq Abad
صیغہ صفت:
اسم فاعل، اسم مفعول، اسم تفضیل، صفت مشبہ وغیرہ کو صیغہ صفت کہا جاتا ہے۔
صیغہ صفت کو شبہ فعل کہنے کی وجہ:
صیغہ صفت میں اصل کردار اسم فاعل کا ہوتا ہے، اور باقی اس کے تابع شمار کیے جا سکتے ہیں، اس لحاظ سے دیکھیں تو جب یہ کہا جاتا ہے کہ صیغہ صفت شبہ فعل ہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اسم فاعل بہت سی چیزوں میں فعل مضارع کے مشابہ ہوتا ہے:
جس طرح فعل مضارع فاعل کو رفع اور مفعول کو نصب دیتا ہے یعنی معمول میں عمل کرتا ہے صیغہ صفت
جس طرح فعل مضارع بصورتِ جملہ نکرہ کی صفت بن سکتا ہے ایسے ہی اسم فاعل بھی نکرہ کی صفت واقع ہو سکتا ہے۔
جس طرح فعل مضارع پر حرکات و سکنات ظاہر ہوتی ہیں ایسے ہی اسم فاعل پر بھی یہ چیزیں ظاہر ہوتی ہیں۔
جس طرح فعل مضارع پر اضافی چیزیں داخل ہو سکتی ہیں جیسے س اور سوف ایسے ہی اسم فاعل پر الف لام داخل ہو سکتا ہے۔
اسی طرح اسم فاعل اور مضارع دونوں پر لام تاکید داخل ہو سکتا ہے۔ (مزید وضاحت کے لیے مراح الارواح دیکھ سکتے ہیں فصل فی المستقبل اور فصل فی اسم الفاعل)۔
نوٹ:
صیغہ صفت چونکہ بذات خود اسم ہوتا ہے اس لیے اسے شبہ جملہ اسمیہ کہتے ہیں۔
شبہ جملہ کی تعریف:
ہر جار مجرور اور ظرف والے کلام کو شبہ جملہ کہا جاتا ہے۔
شبہ جملہ اور جملہ میں مشابہت کی وجہ سے اسے شبہ جملہ کہا جاتا ہے۔
1۔ ساخت و بناوٹ: جس طرح جملہ میں ایک سے زائد کلمات موجود ہوتے ہیں اسی طرح شبہ جملہ میں بھی ایک سے زائد کلمات ہوتے ہیں۔
2۔ جس طرح جملے میں جملے میں مسند و مسند الیہ ہوتے ہیں اس میں بھی موجود ہوتے ہیں۔
3۔ رابط کا پایا جانا: جس طرح جملے میں ضمیر یا کوئی رابط موجود ہوتا ہے اسی طرح شبہ جملہ میں بھی ضمیر یا رابط موجود ہوتا ہے۔
4۔ دلالت زمانی و مکانی: جس طرح شبہ فعل میں زمان یا مکان پایا جاتا ہے اسی طرح فعل میں بھی زمانہ پایا جاتا ہے اور مکان بھی یعنی فعل کسی نہ کسی جگہ ہی واقع ہوگا۔
شبہ جملہ کی ترکیب:
اس کی مختلف تراکیب علمائے نحویین نے ذکر کی ہیں:
=اس کا متعلق فعل ہو تو یہ جملہ فعلیہ ہوتا ہے۔
=اس کا متعلق صیغہ صفت ہو تو یہ از قبیل مفرد قرار پا کر شبہ جملہ اسمیہ ہوتا ہے۔
بعض نے کہا ہے کہ یہ جب جملہ اسمیہ میں ہو تو مستقل خبر ہوگا بغیر کسی کے متعلق ہوئے۔ جیسے زید فی الدار میں فی الدار مستقل خبر ہے۔
بعض دیگر تراکیب بھی ذکر کی گئی ہیں۔
ابو سفیان محمد راشد مدنی صادق آبادی