صرف
1
فعل کا فاعل کب مؤنث لایا جاتا ہے اور کب تثنیہ اور جمع لانا جائز ہیں جو
16 اگست، 2025Abbas Ali
شہزاد عابد
راجن پور،روجھان
آپ کا سوال بہت عجیب سا ہے
بہر حال
فعل فاعل ہے مطابق لایا جاتا ہے
تفصیل یوں ہے
فاعل اگر اسم ظاہر ہے تو فعل ہمیشہ واحد ہوگا فاعل چاہے تثنیہ یا جمع ہو
اگر فاعل مذکر ہے تو فعل مؤنث ہوگا
اگر فاعل مؤنث حقیقی ہو اور فعل اور فاعل کے درمیان فاصلہ نا ہو تو فعل مؤنث ہی لایا جائے گا
اگر فاعل مؤنث حقیقی ہو فعل اور فاعل کے درمیان فاصلہ ہو یا فاعل مونث مجازی اسم جمع اسم جنس یا مذکر عاقل کی جمع مکسر ہو تو فعل مذکر و مؤنث دونوں طرح آ سکتا ہے