متعلقہ سوالات
صرف
1
قاعدہ ہے کہ بعض افعال میں عین یا لام کلمہ کے حروف حلقی سے تعلق رکھنے کی وجہ سے عین کلمہ کو فتحہ دیا جاتا ہے لیکن حقیقتا اور تقدیرا وہ مکسور ہی ہوتا ہے جیسے وضع یضع ۔۔۔۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر عین کلمہ حقیقتہ مکسور ہوتا ہے تو ہم اس کا باب فتح یفتح کیوں بیان کرتے ہیں
17 دسمبر، 2024بنت خلیل خلیل
جواب دہندہ
اصل میں مکسور العین تھے لیکن وہاں سے نقل کر دیا گیا باب فتح یفتح سے تو اب یہ باب فتح یفتح سے آتے ہیں