Logo
قاعدہ ہے کہ بعض افعال میں عین یا لام کلمہ کے حروف حلقی سے تعلق رکھنے کی وجہ سے عین کلمہ کو فتحہ دیا جاتا ہے لیکن حقیقتا اور تقدیرا وہ مکسور ہی ہوتا ہے جیسے وضع یضع ۔۔۔۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر عین کلمہ حقیقتہ مکسور ہوتا ہے تو ہم اس کا باب فتح یفتح کیوں بیان کرتے ہیں