صرف
1
قالین کی صرفی تحقیق فرما دیں
16 دسمبر، 2024Muslim
Kaif Aliraza
کراچی
قَالِينَ
صیغه جمع مذکر اسم فاعل ناقص از باب ضرب يضرب ( دشمن رکھنے والے) راعین والے قاعدے کے تحت تعلیل ہوئی قرآن پاک میں ہے: ﴿إِنِّي لِعَمَلِكُم مِّنَ الْقَالِينَ ﴾ ۔ قرآن پاک میں تو یہ اسم فاعل ہی استعمال ہوا کیونکہ اس پر الف لام داخل ہے لیکن قالین میں ایک احتمال یہ بھی ہے کہ یہ باب مفاعلة سے امر حاضر مونث کا صیغہ ہے: قالَى يُقَالِى مُقَالَاةً - امرقَالِ قَالِيَا قَالُوا قَالِي قَالِيَا قَالِينَ ۔ اس کا معنی | دشمنی رکھنا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ اس باب سے واحد مونث امر حاضر معروف ہو یعنی قالینی۔ آخر میں نون وقایہ اور یائے متکلم ہو۔ وقف کی حالت میں یائے متکلم کے گرنے اور نون وقایہ کے ساکن ہونے کی وجہ سے قالین پڑھیں گے۔