متعلقہ سوالات
صرف
1
قال باع بعن یباع یقال خفن قائل اس میں کون سے قوانین جاری کیا ہے
29 ستمبر، 2024Iltaf hussain Mulana
جواب دہندہ
قال باع
میں درج ذیل قانون جاری ہوئے ہیں
قاعدہ
اگر فتحہ کے بعد واو یا یاء متحرک آجائے تو اسے چند شرائط کے ساتھ الف سے بدلنا واجب ہے
بِعْن
قاعدہ
جب اجوف کی ماضی معروف یا مجہول میں عین کلمہ اجتماع ساکنین کی وجہ سے گر جائے تو فاء کلمہ کو ضمہ دیا جائے گا (جبکہ اجوف واوی مفتوح العین یا مضموم العین ہو) ورنہ (جبکہ اجوف يائی ہو یا اجوف واوی مکسور العین ہو تو) کسرہ دیں گے
یقال یباع
قاعدہ
واو یا یاء کا ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو ان کی حرکت مَاقبل کو دینا واجب ہے اور اگر يہ حرکت فتحہ ہو تو واو یا یا کو الف سے بدلنا بھی واجب ہے بشرطیکہ قاعدہ نمبر 1 کی شرائط کے ساتھ ساتھ درج ذیل چھ 6 شرائط بھی اس میں پائی جائیں۔
(۱)
واو اور یاء کے بعد حرف ساکن نہ ہو۔ لہذا مِقْوَالٌ میں یہ اصول جاری نہیں ہوگا
(۲)
واؤ اور یا والا کلمہ اسمِ تفضیل نہ ہو۔ جیسے: "اَقْوَلُ"
(۳)
وہ کلمہ فعلِ تعجب نہ ہو۔ جیسے: "مَااَقْوَلَہٗ"
(۴)
وہ کلمہ صفتِ مشبہہ بروزن "اَفْعَلُ" نہ ہو۔ جیسے: "اَسْوَدُ"
(۵)
وہ کلمہ ملحق نہ ہو۔ جیسے: "شَرْیَفَ"
(۶)
وہ کلمہ اسمِ آلہ نہ ہو۔ جیسے: "مِقْوَلٌ"
قائل
قاعدہ
ہر وہ واؤ اور یاء جو اسمِ فاعل کے عین کلمہ میں ہو اسے ہمزہ سے بدلنا واجب ہے بشرطیکہ اُسکی ماضی میں تعلیل ہو چکی ہو