نحو
1
معنیٰ صرفی تعلیل
20 اپریل، 2026Muhammad aman Raza attari
Kaif Aliraza
کراچی
یہ اصل میں۔ «مَعْنُوْيٌ» تھا۔ قاعدہ یہ ہے۔کہ ہر وہ واو جو دوسرے حرف سے بدلی ہوئی نہ ہواگر کسی غیر ملحق کلمہ میں یاء کے ساتھ جمع ہو جاۓ اور ان میں پہلا حرف۔ واو، یا یاء، ساکن ہو تو واو کو یاء سے بدل کر یاء کا یاء میں ادغام کرنا واجب ہے۔[نصاب الصرف۔ ٢٣٠]
تو واو کو یاء سے بدل کر یاء کا یاء میں ادغام کیا تو یہ «مَعْنُيٌّ» ہو گیا۔پھر یاء کی مناسبت سے ما قبل کے ضمے کو کسرہ سے بدل دیا۔ اور کثرت استعمال کی وجہ سے خلاف قیاس ایک یاء کو گرا دیا۔ اور خلاف قیاس ہی ما قبل کے کسرہ کو فتحہ سے بدل دیا۔ تو یہ۔«مَعْنَيٌ» ہو گیا اور بقیہ تعلیل اسی طرح ہوگی جو اوپر ذکر کی گئی ہے