نحو
1
معنیََ
7 فروری، 2026
Kaif Aliraza
کراچی
صیغہ واحد مذکر اسم مفعول ثلاثی مجرد ناقص یائی باب ضرب یضرب
یہ اصل میں۔ «مَعْنُوْيٌ» تھا۔ قاعدہ یہ ہے۔کہ ہر وہ واو جو دوسرے حرف سے بدلی ہوئی نہ ہواگر کسی غیر ملحق کلمہ میں یاء کے ساتھ جمع ہو جاۓ اور ان میں پہلا حرف۔ واو، یا یاء، ساکن ہو تو واو کو یاء سے بدل کر یاء کا یاء میں ادغام کرنا واجب ہے۔
تو واو کو یاء سے بدل کر یاء کا یاء میں ادغام کیا تو یہ «مَعْنُيٌّ» ہو گیا۔پھر یاء کی مناسبت سے ما قبل کے ضمے کو کسرہ سے بدل دیا۔ اور کثرت استعمال کی وجہ سے خلاف قیاس ایک یاء کو گرا دیا۔ اور خلاف قیاس ہی ما قبل کے کسرہ کو فتحہ سے بدل دیا۔ تو یہ۔«مَعْنَيٌ» ہو گیا اور بقیہ تعلیل اسی طرح ہوگی جو اوپر ذکر کی گئی ہے
پھر قاعدہ لگا واؤ یا یاء متحرک ماقبل مفتوح کو الف سے بدلنا واجب ہے پھر جب بدلا تو اجتماع ساکنین کی وجہ سے الف گر گیا پھر معنیً ہوا