متعلقہ سوالات
نحو
1
مفعول بہ ، مفعول لہ ، مفعول معہ ، مفعول فیہ۔ کو ترجمہ سے کیسے پہچانے جواب آسان ہونا چاہیے ؟
3 دسمبر، 2025Mohd aasif Aasif آصف
جواب دہندہ
کچھ مفعول تو مخصوص صورتوں میں آتے ہیں ان کی پہچان مشکل نہیں ہے
جیسے مفعول فیہ یہ ہمیشہ ظرف یعنی جگہ یا وقت والے اسماء ہوں گے
مفعول لہ میں ہمیشہ مصدر ہوتا ہے جو فعل کی علت بتاتا ہے
جیسے قرآن کریم میں ہے حذر الموت خشیۃ املاق ان میں حذر اور خشیۃ مصدر ہیں اور پیچھے والے افعال کی علت بتا رہے ہیں
مفعول معہ ک آسان سا یہ ہے کہ جہاں عطف ہو رہا ہوتا ہے وہاں اکثر مفعول معہ بھی بن سکتا ہے صرف ترجمہ میں لفظ ساتھ کا اضافہ کرنا پڑے گا
جیسے جئت و زیدا میں زید کے ساتھ آیا
مفعول بہ میں کسی چیز پر فعل واقع ہوتا ہے اس کی پہچان کے لیے یہ یاد رکھیں کہ اگر وہ اسم کس کو یا کس کی کے سوال کے جواب میں واقع ہو تو مفعول بہ ہوگا
زید نے بکر کو مارا
اب یہاں بکر حذف کر دیں اور کہیں زید نے مارا تو جواب آئے گا زید کو
یہ آسان سی پہچان ہوتی ہیں