نحو
1
ممیز اور تمیز کا ترجمعہ کیسے کریں
20 مارچ، 2025Sk faruck
Kaif Aliraza
کراچی
تمییز کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں، ترجمہ کرتے وقت معلوم ہونا چاہیے کہ عبارت میں تمییز کی کونسی صورت مراد ہے موقع محل کے اعتبار سے تمیز کی کسی ایک صورت کا تعیُن کیا جائے پھر اسی صورت کے مطابق ترجمہ کیا جائے۔
تمییز کی مختلف صورتیں:
(1) کبھی تمیز مُحوّل عن المبتدا ہوتی ہے اور اس کا ترجمہ تمییز کو مبتدا کی طرف مضاف کر کے کرتے ہیں جیسے:
زيد أكثر علماً :
اس کا معیاری ترجمہ یوں ہوگا: زید کا علم زیادہ ہے۔
بعض اوقات تمييز محوّل عن المبتدا كا ترجمہ ان مختلف تعبیرات میں کیا جاتا ہے: زید زیادہ علم والا ہے / زید زیادہ جانتا ہے / زید علم کے اعتبار سے زیادہ ہے۔
اگر چہ یہ ترجمہ چل تو جائے گا لیکن اس عبارت کا اصل مفہوم ادا نہیں ہو گا۔
(2) کبھی تمييز ، مُحَوَّل عن المفعول ہوتی ہے مُحوَّل عن المفعول کا ترجمہ مفعول والا کریں گے یعنی تمییز کو مفعول کی طرف مضاف کر کے ترجمہ کریں گے جیسے :
فَزَادَهُم ايماناً:
یہاں تمييز مُحَوَّل عن المفعول ہے لہذا اس کا معیاری ترجمہ یوں ہوگا:
تو اس نے ان کے ایمان کو اور بڑھایا۔
زادني هذا الكتاب علماً :
یہاں تمييز مُحوّل عن المفعول ہے لہذا اس کا معیاری ترجمہ یوں ہوگا: اس کتاب نے میرے علم کو اور بڑھا دیا اس کتاب نے میرے علم میں اضافہ کیا۔
رب زدنی علما
یہاں تمييز مُحوّل عن المفعول ہے لہذا اس کا معیاری ادبی ترجمہ یوں ہوگا: اے میرے رب میرے علم میں اضافہ فرما۔