متعلقہ سوالات
نحو
1
موصوف ہونا اسم کے زائد معنی ہونے پر دلالت کرتا ہے اور زائد معنی فعل میں نہیں پائے جاتے مگر فعل کی صفت بیان ہو تو زائد معنی اس میں بھی آسکتے ہیں اس کی وضاحت فرما دیں۔جزاک اللہ خیرا
27 اپریل، 2025اریحا وحید
جواب دہندہ
زید یہ کسی کا نام ہے اور اس سے اس کی ذات ہمارے ذہن میں آ گئی
اگر اس کی صفت بیان کی جائے زید عالم تو اس مثال سے زید کی شخصیت تو پہلے کی طرح سمجھ آ رہی ہے لیکن ایک زائد معنی عالم ہونا بھی سمجھ آیا جو کہ زید کے موصوف بننے کے وقت ہمارے ذہن میں آیا
اب اسم میں زائد معانی ہوتے ہیں
لیکن فعل میں نہیں ہوتے اب اگر فعل کی بھی صفت بیان کی جائے جیسے ضربت زیدا ضربا شدیدا
میں نے زید کو بہت مارا تو یہاں فعل دعل ضرب کے زائد معنی بھی آ گئے
جو کہ صفت بیان کرنے کی صورت میں ہی آئے
یہاں ایک فرق یاد رہے فعل کا موصوف ہونا اصطلاحی موصوف نہیں ہے جو ہم توابع کے بیان میں پڑھتے رہے ہیں