متعلقہ سوالات
نحو
1
میں یہ سوال ایک بار پھرکر رہا ہو کہ قرآن کی اس آیت میں "و اذقلنا لالملاءکة اسجدوا لآدم فسجدوا الا ابلیس" اس آیت میں فسجدوا جمع مزکر کا صیغہ ہے اور ان کا فاعل ھن ضمیر ہے جو ملاءکة کی طرف راجع ہے حالانکہ ملاءکة بظاھر لفظوں میں مؤنث کے حکم میں ہے تو پھر فسجدوا مزکر کا صیغہ کیوں استعمال ہوا ہے اور فاعل بھی ظاھر نہیں ضمیر ہے
13 مئی، 2025Abdull Salam
جواب دہندہ
محترم المقام
اس سوال کا جواب دو قاعدوں پر مشتمل ہے
اول : جب مؤنث لفظی فاعل ظاہر ہو تو فعل مذکر و مؤنث دونوں طرح لا سکتے ہیں
دوم : اور اگر فاعل ظاہر نا ہو بلکہ ضمیر ہو جو مؤنث سماعی کی طرف لوٹ رہی ہو تو پھر فعل کو مؤنث لانا واجب ہے
آپ کی پیش کردہ مثال کا تجزیہ
اسجدوا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے اس کا فاعل واؤ ضمیر ہے نا کہ ھن جیسا کہ آپ نے فرمایا
اب دوسرے قاعدے کے مطابق یہاں فعل مؤنث ہونا چاہئے تھا لیکن مذکر کیوں ہے ؟
تو یاد رہے کہ دوسرے قاعدے کی شرط ہے کہ "ضمیر راجع ہو مؤنث سماعی کی طرف" جو کہ یہاں راجع نہیں ہے کیوں کہ ضمیر حاضر و متکلم راجع نہیں ہوتیں بلکہ صرف ضمیر غائب ہی راجع ہوتی ہے
تو یہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ فاعل ظاہر کے حکم میں ہے