Logo
میں یہ سوال ایک بار پھرکر رہا ہو کہ قرآن کی اس آیت میں *و اذقلنا لالملاءکة اسجدوا لآدم فسجدوا الا ابلیس* اس آیت میں فسجدوا جمع مزکر کا صیغہ ہے اور ان کا فاعل ھن ضمیر ہے جو ملاءکة کی طرف راجع ہے حالانکہ ملاءکة بظاھر لفظوں میں مؤنث کے حکم میں ہے تو پھر فسجدوا مزکر کا صیغہ کیوں استعمال ہوا ہے اور فاعل بھی ظاھر نہیں ضمیر ہے