متعلقہ سوالات
صرف
1
واحد متکلم کا صیغہ اور اسمِ تفضیل مذکر کے صیغہ میں کیا فرق ہے۔ دونوں کا صیغہ” افعل“ کے وزن پر آتا ہے تو اس میں کیسے پتہ لگے گا کہ یہ کونسا صیغہ ہے؟
25 فروری، 2025Najaf mehmood
جواب دہندہ

دونوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ایک اسم ہے اور دوسرا فعل۔
دوسرا فرق یہ ہے کہ سیاق کلام دیکھا جائے گا، اگر کسی چیز کو دوسری چیز سے اضافی معنی والا بتایا جا رہا ہے تو وہاں اسم تفضیل ہوگا ورنہ فعل مضارع۔
تیسرا نحوی انداز سے دیکھیں گے: اسم تفضیل تین طرح سے استعمال ہوتا ہے۔ الف لام کے ساتھ، اضافت کے ساتھ اور من کے ساتھ۔
یہاں الف لام آ جائے تو شبہ ہی ختم ہوگا کہ یہ فعل ہے یا اسم۔ کہ الف لام اسم پر ہی آتا ہے۔
اور مضاف ہو تو بھی شبہ ختم کہ مضاف ہونا اسم کا خاصہ ہے۔
اور من کے ساتھ ہو تو جار مجرور کو متعلق کے ساتھ باعتبار معنی جوڑ کر دیکھیں واضح ہو جائے گا کہ یہ اسم ہے یا فعل۔
ھذا ما ظہر لی۔
ابو سفیان محمد راشد مدنی (صادق آبادی)