متعلقہ سوالات
نحو
1
وبلجملتہ الاحادیث فی ھذا المعنی وفی کثیر من احوال الاخرۃمتواترۃالمعنی وان لم یبلغ احادھا حدالتواتر ۔ کی معنی اور تشریع بتا ؤ
6 نومبر، 2024فریدہ فریدہ
جواب دہندہ
اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ
اس معنی میں احادیث بہت ساری ہیں اور اخرت کے احوال میں بھی کثیر ہیں تو معنی کے اعتبار سے متواتر ہے اگرچہ الفاظ کے کے اعتبار سے حد تواتر کو نا پہنچی
اس کا مطلب یہ ہے کہ حدیث متواتر وہ حدیث ہوتی ہے جس کو روایت کرنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہو کہ ان سب کو جھوٹا کہنا بھی نا ممکن ہو
اب اس کی دو صورتیں ہیں کہ ایک تو وہ حدیث متواتر ہوتی ہے جس کے الفاظ ہی اتنے بندوں نے بیان کیئے ہوں
اور دوسری حدیث ہوتی ہے متواتر المعنی یعنی جس کے الفاظ تو اتنے لوگوں نے نا بیان کیئے ہوں البتہ اس معنی کی احادیث بہت ہوں
جیسے احادیث آخرت کہ مختلف الفاظ ہیں لیکن سب کو یکجا کریں تو ایک بات واضح ہوتی ہے کہ آخرت کے وقوع کی خبر ہر حدیث میں ہے تو یہ متواتر المعنی ہوئی