Logo
وزن عروضی وہ وزن ہے جس میں متحرک کے مقابلہ میں متحرک ہو -ساکن کے مقابلہ میں ساکن ہو حرکات کی خصوصیت کا بھی لحاظ نہ ہو، اصلی اور زائد کا بھی لحاظ نہ ہو۔ جیسے : شریف بروزن فَعُولٌ حوالہ : مقدمہ میزان الصرف میں (5) از حسن رضا سیالوی اعتراض : مقدمہ ، میزان الصرف میں وزن عروضی کی تعریف اور مثال میں تضاد ہے۔ مثالی تعریف کے خلاف ہے تعریف میں موجود ہے کہ اصلی اور زائد کا لحاظ نہ ہو " یعنی اصلی اور زائد آمنے سامنے نہ ہو اسی کے مقابلہ میں زائد نہ ہو۔ جبکہ مثال میں "شریف" کی "ی" فُعُول کے "و" کے مقابلہ میں ہے شریف میں "ش" " " "ف" اصلی ہیں کیونکہ یہ فعول میں "ف" "ع " "ل" کے مقابلہ میں ہے۔ اب اعتراض یہ ہے کہ شریف کی "ی" "فعول " کے "و" کے مقابلہ میں ہونے کی وجہ سے یہ مثال وزن عروضی میں کس طرح داخل ہو سکتی ہے۔ معترض ( حافظ احمد رضا رضوی از جامعه فردوسیہ رضویه) کیا یہ میرا اعتراض درست ہے