متعلقہ سوالات
نحو
1
کتاب کافیہ میں معرب کی تعریف اس طرح لکھی ہوئ ہے (فالمعرب المرکب الذی لم یشبہ مبنی الاصل ) اب اس عبارت سے پیچھے والی عبارت میں یہ لکھا ہوا ہے کہ "معرب اور مبنی" اسم کی اقسام میں سے ہیں اور اسم کلمے کی اقسام میں سے تو کلمہ کا دوسرا نام مفرد ہے یعنی اسم بھی مفرد ہوا اور اس کی اقسام معرب اور مبنی بی مفرد ہوئے تو اس تعریف میں (فالمعرب المرکب )کیوں لکھا گیا؟ ؟؟
23 اپریل، 2025M.Atif Attari
جواب دہندہ
یہ مرکب سے اصطلاحی معنی مراد نہیں ہے بلکہ لغوی معنی مراد ہے کہ معرب وہ کلمہ جس کو مرکب ( جوڑا گیا ہو) جو کہ مبنی الاصل کے مشابہ نا ہو
مزید یوں تفصیل سے بات کلیئر ہوگی کہ معرب کے لئے صاحب کافیہ کے نزدیک مرکب ہونا یعنی کسی کلام میں ہونا ضروری ہے