متعلقہ سوالات
صرف
1
مقام صرف میں کیا ہے؟
11 اگست، 2024بنت طارق محمود 
جواب دہندہ
مقام میں تین احتمال ہیں
مَقَام ہو تو صیغہ واحد اسم ظرف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر
مُقام اس صیغے میں تین احتمال ہیں
ایک مصدر میمی
دوم اسم ظرف
تین اسم مفعول
یہ تینوں ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی از باب افعال سے ہوں گے
ان سب میں تعلیل ایک ہی ہوگی
قاعدہ
واو یا یاء کا ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو ان کی حرکت مَاقبل کو دینا واجب ہے اور اگر يہ حرکت فتحہ ہو تو واو یا یا کو الف سے بدلنا بھی واجب ہے بشرطیکہ قاعدہ نمبر 1 کی شرائط کے ساتھ ساتھ درج ذیل چھ 6 شرائط بھی اس میں پائی جائیں۔
(۱)
واو اور یاء کے بعد حرف ساکن نہ ہو۔ لہذا مِقْوَالٌ میں یہ اصول جاری نہیں ہوگا
(۲)
واؤ اور یا والا کلمہ اسمِ تفضیل نہ ہو۔ جیسے: "اَقْوَلُ"
(۳)
وہ کلمہ فعلِ تعجب نہ ہو۔ جیسے: "مَااَقْوَلَہٗ"
(۴)
وہ کلمہ صفتِ مشبہہ بروزن "اَفْعَلُ" نہ ہو۔ جیسے: "اَسْوَدُ"
(۵)
وہ کلمہ ملحق نہ ہو۔ جیسے: "شَرْیَفَ"
(۶)
وہ کلمہ اسمِ آلہ نہ ہو۔ جیسے: "مِقْوَلٌ"
تو اصل میں مُقْوَم یا مَقْوَمٌ تھا واؤ کی حرکت ما قبل قاف کو دیکر واؤ کو الف سے بدلا تو مقام ہوگیا
لیکن اصل میں یہ اسم ظرف زیادہ استعمال ہوتا ہے بمعنی رہائش گاہ