متعلقہ سوالات
نحو
1
اس کے تدریسی ٹیسٹ کی تیاری کیسے کریں
9 اگست، 2024Sahil Sahil786 Sawera 
جواب دہندہ

🌹 انٹری ٹیسٹ کی تیاری کرنے کا طریقہ🌹
✍️ ابو المتبسِّم ایاز
پیارے طلباء کرام!!!!
👈 آپ تدریس کرانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ جس کے لئے تدریسی ٹیسٹ پاس کرنے سے پہلے انٹری ٹیسٹ میں کامیابی بہت ضروری ہے۔ اب المیہ یہ کہ آپ ابھی باقاعدہ طالب علم ہیں یعنی کہ جامعہ میں پڑھنے جاتے ہیں اور ہے بھی آخری درجہ یعنی "درجہ دورۃ الحدیث" ایک طرف درجہ کے اسباق تو دوسری طرف انٹری ٹیسٹ کی تیاری۔
👈 اب ایسا کیا کیا جائے ؟
کہ درجے کے اسباق بھی بہترین انداز سے تیار ہو جائیں اور انٹری ٹیسٹ کی تیاری بھی زبردست ہوجائے۔ تو اس کے لئے کچھ باتیں عرض کرنے کی کوشش کرتا ہوں اس پہ عمل کریں ان شاء اللّٰه عزوجل آپ کے درجے کے اسباق کی تیاری بھی ہو جائے گی اور ساتھ میں انٹری ٹیسٹ کی بھی تیاری ہو جائے گی:
1: انٹری ٹیسٹ میں جتنی بھی کتب شاملِ نصاب ہیں وہ سب کی سب عربی کتابیں ہیں اور عربی کی بنیاد صرف و نحو پر ہے۔ اسلئے سب سے پہلے آپ صرف و نحو کے قواعد کو سہل انداز میں مضبوط کریں پھر ایک کتاب پہ صرف و نحو کا اجراء کریں اس طرح جب آپ کی عبارت مضبوط ہو جائے گی تو بقایا کتب کی تیاری کرنا بہت آسان ہو جائے گی۔
کیونکہ آپ کی عبارت مضبوط ہے. بصورت دیگر طلبہ کرام شروحات یا اردو خلاصے کیو پڑھتے ہیں ؟
اسی وجہ سے کہ عبارت کمزور ہے، عبارت کی سمجھ نہیں آتی
اور اگر آپ کی عربی عبارت مضبوط ہے. پھر چاہے کونسی بھی کتاب ہو آپ بآسانی پڑھ بھی لیں گے اور جلدی سبق آپ کو یاد بھی ہو جائے گا۔
👈 ضروری بات: صرف و نحو کے قواعد کو مہربانی کرکے رٹا لگا کہ کبھی بھی یاد مت کریں بلکہ سمجھ کہ یاد کریں پھر اجراء شروع کریں۔
2: خود کو فضولیات سے بچائیں۔ جو طلبہ کرام فضولیات میں مشغول نہیں بھی ہیں لیکن وہ افراط و تفریط کا شکار ہیںذ. اپنے انٹری ٹیسٹ کی کتب پر ہی بہت سارا وقت لگا دیتے ہیں۔ جس سے درجہ کے اسباق متاثر ہوتے ہیں یا پھر انٹری ٹیسٹ کی تیاری پر توجہ نہیں دیتے۔
بلکہ آپ ایک وقت مقرر کریں تاکہ ٹیسٹ بھی ہو جائے اور درجہ کے اسباق بھی ہو جائیں
3: آپ اپنے درجہ کی کتب بھی انٹری ٹیسٹ کے طرز پر تیار کریں یعنی کہ آپ روز مرہ کے اسباق میں ہی عبارت و ترجمہ پر توجہ دیں اور نحوی ، صرفی اجراء کریں۔ اس سے انٹری ٹیسٹ کی تیاری بھی ہوگی اور معلِّم الدرجہ بھی خوش ہوجائیں گے۔
4: اپنا جدول بنائیں کہ کس وقت میں کیا کرنا ہے اور کس وقت میں کیا ؟
اور اس جدول پر سختی سے عمل کریں۔
اسلئے کہ جدول نہ ہونے کی صورت میں بندہ سستی کا شکار ہو جاتا ہے، اور پھر اس طرح سے وقت ضائع کر دیتے ہیں.
5: جو بھی پڑھیں کسی سے اس کی تکرار لازمی کریں/ کسی کمزور طالب علم کو سمجھا دیں اس سے آپ کی تدریسی صلاحیت بڑھے گی۔ اور کسی اور کا بھی بھلا ہو جائے گا۔
6: اگر آپ نحو و صرف میں کمزور ہیں تو اللّٰه پاک سے بہت ساری دعا کیجیے اور کسی فارغ التحصیل طالب علم / استاذ صاحب سے عرض کرکے ان کا کچھ وقت لے لیں اور ان سے کوشش کرکے اپنی کمزوری کو دور کریں۔
7: ان سب میں مشغول ہوکر اپنی روحانیت خراب نہ کریں۔یعنی کہ پڑھائی کو خود پر اتنا حاوی نہ کریں کہ نہ نماز کی پرواہ، نہ سنت کی پرواہ اور نہ ہی تلاوت قرآن کی پرواہ۔
👈 آپ خواہ کتنے ہی مصروف ہوں اپنی روح کو غذا فراہم کریں۔ روح کو جب غذا ملے گی تو ان شاء اللّٰه علم بھی مل جائے گا۔