متعلقہ سوالات
صرف
1
الحفاۃ ، العراۃ ، العالۃ اور دعاء ان چاروں کا صرفی تجزیہ کیسے ہوگا؟1
14 جولائی، 2024Aneeza Bashir
جواب دہندہ
I
الحفاۃ اور العراۃ
صیغہ جمع مکسر اسم فاعل ثلاثی مجرد ناقص یائی از باب ضرب یضرب
اصل میں عریۃ اور حفیۃ تھے یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو الحَفاۃ اور العَراۃ ہوگئے
پھر متفرق قوانین کے دوسرے قاعدے کے مطابق
اگر اسم فاعل کی جمع فعلہ کے وزن پر ہو اور لام کلمہ حرف علت ہو تو اس کو الف سے بدل کر فاء کلمہ کو ضمہ دیتے ہیں
العالہ صیغہ جمع مکسر اسم فاعل ثلاثی مجرد اجوف یائی از باب ضرب یضرب
اصل میں عَیَلَۃٌ تھا یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو عالۃ ہوگیا
دعاء مصدر ثلاثی مجرد ناقص واوی از باب نصر ینصر
اصل میں دعاو تھا
واؤ الف زائدہ کے بعد واقع ہوئی تو اسے یاء سے بدل دیا