نحو
1
Assalamu alaikum wa rahmatullahi wa barakatuh میرا سوال یہ ہے کہ قران میں سورہ تکویر کی پہلی ایات ہے اس کا ترجمہ ہے کہ سورج بے نور ہو جائے گا لیکن یہاں پر صغہ جو استعمال ہوا ہے وہ تو ورت صیغہ واحد مونث غائب اور ماضی کی کردار کا ہے لیکن ترجمے میں تو ا رہا ہے جب بے نور ہو جائے گا یعنی قیامت کے دن سورج بے نور ہوگا یہ تو ائندہ یعنی مستقبل میں ہے یہ تو مضارع ہے معنی مضارع ہے اور صیغہ ماضی کا اس کی کیا وجوہات ہیں
3 جنوری، 2026Muhammad rafeeq yaqoob
شہزاد عابد
راجن پور،روجھان
وہاں لفظ اذا اسم ظرف آ رہا ہے جو شرط ہے معنی میں ہے
اور یہ اذا ماضی پر آتا ہے تو اسے مستقبل کے معنی میں کر دیتا ہے