متعلقہ سوالات
نحو
1
عطف بیان اور بدل کل میں کیا فرق ہے ؟
15 جون، 2024Shamaila Afzal
جواب دہندہ
ا
عطف بیان اور بدل چند فرق ہیں جو نیچے مذکور ہیں
( یہ فروق صرف لفظی ہیں معنی کے اعتبار سے بھی فرق ہوتا ہے)
جہاں پر بدل بن سکتا ہے وہاں عطف بیان بھی بن سکتا ہے چند جگہیں ایسی ہیں جہاں صرف عطف بیان ہی بنایا جائے گا بدل نہیں بنایا جاسکتا
اس کا قاعدہ یاد رکھئے گا کہ جب متبوع یا تابع میں سے کسی سے بھی استغناء ممکن نا ہو تو پھر عطف بیان متعین ہوگا
مثلا ھند قام عمر اخوھا
اگر اس مثال میں اخوھا کو ہم بدل بنائیں تو بدل میں تکرار عامل معنوی طور پر ہوتا ہے تو اخوھا میں بھی قام نکالیں گے تو یوں بن جائے گا ھند قام عمر قام اخوھا تو قام عمر خبر ہے جو کہ جملہ ہے اور یہ بغیر ضمیر کے رہ گئی ہے جو کہ درست نہیں ہے
یہ تو ہوگئی تابع کی مثال اب متبوع کی مثال سمجھ لیں
ان ابن التارک البکری بشر
اس مثال میں اگر البکری سے بشر کو تابع بنائیں تو بشر سے پہلے بھی التارک نکالنا پڑے گا پھر مثال یوں بنے گی
ان ابن التارک البکری التارک بشر
تو التارک بشر کی طرف مضاف ہے مضاف معرب باللام ہے جب کہ مضاف الیہ بغیر الف لام کے ہے یہ درست نہیں کیوں کہ قاعدہ ہے جب اضافت لفظیہ مضاف الیہ معرف باللام یا تثنیہ یا جمع ہو تو مضاف پر الف لام آ سکتا ہے اب البکری میں یہ قاعدہ تو ٹھیک ہے لیکن بشر میں درست نہیں تو یہاں بھی عطف بیان ہی بنائیں گے (مزید تفصیل خلاصۃ النحو سے دیکھ لیں اضافت کا بیان)
چند واضح فرق
1بدل میں تابع اہم ہوتا ہے عطف بیان میں متبوع
2عطف بیان میں تابع اور متبوع ضمیر نہیں ہوسکتے
3عطف بیان تنکیر و تعریف میں متبوع کے عین مطابق ہوگا جبکہ بدل میں مطابق ہونا ضروری نہیں
4 عطف بیان میں تابع اور متبوع جملہ نہیں ہوسکتے جبکہ بدل میں ہوسکتے ہیں
5 عطف بیان میں تابع اور متبوع فعل نہیں ہوسکتے