نحو
1
نصاب الصّرف صفحہ 22 پر ہے کہ فعل ماضی احتمالی میں جب لعل کا اضافہ کیا جائے گا تو اسکے بعد ایک اسم منصوب یا ضمیر کاہونا ضروری ہے جو صیغہ کے بدلنے کے ساتھ ساتھ بدلتی رہے گی تو سوال یہ ہے کہ ضمیر تو بدلتی رہے گی فعل کے صیغہ کے ساتھ ساتھ تو جب اسم منصوب ہوگا تو کیا اسم منصوب بھی فعل کے صیغہ کے ساتھ ساتھ بدلتا رہے گا یا نہیں جیسے لعل زیدا فعل۔۔۔تو کیا لعل زیدان فعلا۔۔۔لعل زیدون فعلوا ہوگا یا یہ فقط ضمیر کے ساتھ خاص ہے کہ ضمیر ہوگی تو ضمیر فعل کے صیغہ کے ساتھ بدلتی رہے گی۔ اسی طرح فعل ماضی تمنائی میں بھی یہی سوال ہے ۔رہنمائی فرما دیجئے۔۔
25 فروری، 2026Binte hayat...
شہزاد عابد
راجن پور،روجھان
آپ ایک بات سمجھ لیں ان شاء اللہ آپ کا جواب اسی بات میں آئے گا
لعل حروف مشبہ بالفعل ہے جو مبتدا اور خبر پر داخل ہوتا ہے
مبتد کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے
اور لعل میں احتمال/ترجی کا معنی ہوتا ہے یعنی اس کے ترجمے میں شاید کا اضافہ ہوگا
جیسے لعل زیدا قام / شاید زید کھڑا ہو
لیکن یہاں ماضی احتمالی کوئی خاص قسم نہیں ہوتی ماضی کا صیغہ ایک ہی ہے ضرب اور دیگر اقسام جو بھی بن رہی ہیں وہ فعل ماضی کے ساتھ اور لفظ کی زیادتی سے بن رہی ہیں
اگر آپ کو یہ بات سمجھ آ گئی تو آپ ایک اور قاعدہ بھی جان لیجئے کہ
لعل کے بعد والا اسم یا ضمیر در اصل لعل کا اسم ہے جو اصل میں مبتدا تھا
تو خبر مبتدا کے مطابق ہوگی
تو نتیجہ یہ نکلا کہ لعل کے بعد والا اسم منصوب یا ضمیر جو بھی ہو وہ اور اس کے بعد فعل کا صیغہ ہو یہ دونوں واحد تثنیہ جمع اور تذکیر و تانیث میں برابر ہوں گے
اب اس پر ایک اور بات بھی سمجھ لیجئے ضمائر چودہ ہوتی ہیں فعل کے صیغے بھی چودہ تو ضمیر تو مکمل طور پر صیغوں کے ساتھ چینج ہو سکتی ہے
لیکن جب اسم منصوب ہوگا تو تین صیغوں کے ساتھ ہوگا
اگر مؤنث ہو وہ اسم تو مونث غائب کے تین صیغے واحد تثنیہ جمع آ سکتے ہیں جیسا اسم ہوگا واحد تثنیہ یا جمع
اسی طرح مذکر میں بھی ہوگا کہ
کہ اس کے ساتھ تین صیغے مذکر غائب کے آ سکتے ہیں
لیکن اسم کے مطابق ہوں گے اسم واحد تو صیغہ واحد اسم تثنیہ تو صیغہ تثنیہ اسم جمع تو صیغہ جمع
جیسے کہ
لعل زیدا قام
لعل زیدین قاما
لعل زیدِین قاموا
یہ ساری صورت حال ہے
خلاصہ کلام یہ ہے کہ ضمیر چینج ہوگی اور کچھ جگہوں پر اسم بھی چینج ہوگا