نحو
1
ہم فاعل کا معنی کرتے ہے کہ کام کرنے والا لیکن مات زید۔۔ زید مرگیا تو یہ کام عزرائیل علیہ السلام نے کیا نہ کہ زید نے کیوں کہ زید پر ہوا اور جیسے جاز الوضوء میں الوضوء فاعل ہے تو اس نے کچھ نہیں کیا تو ہم پھر اس طرح معنی کیوں کرتے ہیں کہ کام کرنے والے کو فاعل کہتے ہے
2 فروری، 2026Adnan suri
شہزاد عابد
راجن پور،روجھان
طلباء کو سمجھانے کے لیے یہ کہا جاتا ہے فاعل کام کرنے والا ہوتا ہے
در اصل فاعل وہ چیز ہوتی ہے جس سے فعل صادر ہو یا اس کے ساتھ فعل قائم ہو
تشریح : فاعل دو طرح کے ہوتے ہیں
ایک وہ جو کام کرتا ہے اس کا اثر دوسروں تک پہنچتا ہے جیسے مارنا مدد کرنا وغیرہ
دوسرا فاعل وہ ہوتا ہے جو فعل کو انجام نہیں دیتا لیکن وہ فعل اس کی ذات سے وجود میں ہوتا ہے جیسے مذکورہ بالا مثال مات زید میں زید نے مرنے کا فعل نہیں کیا بلکہ مرنے کے فعل کا وجود ذات زید سے ہے
اب تھوڑا اور فرق سمجھیں
امات ( باب افعال سے) اس کا مطلب ہوتا ہے مارنا ،موت دینا تو موت دینا حضرت عزرائیل کا کام ہے یہ وہ فاعل ہوں گے کہ جن سے صدور فعل ہوا ہے
جبکہ مات زید میں زید وہ فاعل ہوگا جس نے فعل نہیں کیا بلکہ فعل کا وجود زید کی ذات سے متعلق ہے