قرآنی صیغہ
تُبْدُوْنَ
· آیت پارہ نمبر 1 ، سورة البقرة ، آیت نمبر 33 · پارہ 1
- پارہ
- 1
- آیت
- پارہ نمبر 1 ، سورة البقرة ، آیت نمبر 33
- اصل صورت
- تُبْدِوُوْنَ بروزن تُکْرِمُوْنَ
- اصلی حروف
- ب ، د ، و
- صیغہ
- جمع مذکر حاضر
- مصدری معنی
- ظاہر کرنا
- باب
- اِفْعَالٌ
- سہ اقسام
- فعل مضارع مثبت معروف
- شش اقسام
- ثلاثی مزید فیہ
- ہفت اقسام
- ناقص واوی
- قاعدہ
- ناقص کا یُدْعَیَانِ والا قاعدہ جاری ہوا یعنی: واؤ چوتھی جگہ واقع ہوئی اور اس سے پہلے ضمہ اور واؤ ساکن بھی نہیں ہے تو واؤ کو یاء سے بدلا تو تُبْدِیُوْنَ ہوگیا۔ پھر ناقص کا خَشُوْا والا قاعدہ جاری ہوا یعنی: یاء مضموم ماقبل مکسور اور مابعد واؤ جمع واقع ہونے کی وجہ سے یاء کی حرکت ماقبل کو دے کر یاء کو اجتماع ساکنین کی وجہ سے گرا دیا تو تُبْدُوْنُ ہوگیا۔