قرآنی صیغہ
مُتَّقِیْنَ
· آیت پارہ نمبر 1 ، سورة البقرة ، آیت نمبر 2 · پارہ 1
- پارہ
- 1
- آیت
- پارہ نمبر 1 ، سورة البقرة ، آیت نمبر 2
- اصل صورت
- مُوْتَقِیُوْنَ بروزن مُجْتَنِبُوْنَ
- اصلی حروف
- و ، ق ، ی
- صیغہ
- صیغہ جمع مذکر
- مصدری معنی
- پرہیزگاری
- باب
- اِفْتِعَالٌ
- سہ اقسام
- اسم فاعل
- شش اقسام
- ثلاثی مزید فیہ
- ہفت اقسام
- لفیف مفروق
- قاعدہ
- مثال کا اِتَّھَبَ والا قاعدہ جاری ہوا یعنی: افتعال کے فاء کلمہ میں واؤ واقع ہونے کی وجہ سے واؤ کو تاء سے بدل کر پھر تاء کا تاء میں ادغام کردیا تو *مُتَّقِیُوْنَ* ہوگیا۔ پھر ناقص کا *یَرْمُوْا* والا قاعدہ جاری ہوا یعنی: لام کلمہ میں یاء مضموم ماقبل مکسور اور مابعد واؤ جمع ہونے کی وجہ سے یاء کی حرکت ماقبل کو دے کر یاء کو اجتماع ساکنین کی وجہ سے حذف کر دیا۔ تو *مُتَّقُوْنَ* ہوگیا۔ جمع مذکر سالم کی حالت نصبی و جری *مُتَّقِیْنَ* آتی ہے۔