قرآنی صیغہ
کُلُوْا
· آیت پارہ نمبر 2 ، سورة البقرة ، آیت نمبر 57 · پارہ 1
- پارہ
- 1
- آیت
- پارہ نمبر 2 ، سورة البقرة ، آیت نمبر 57
- اصل صورت
- اُءْکُلُوْا بروزن اُنْصُرُوْا
- اصلی حروف
- ء ، ک ، ل
- صیغہ
- جمع مذکر حاضر
- مصدری معنی
- کھانا
- باب
- نَصَرَ ، یَنْصُرُ
- سہ اقسام
- فعل امر حاضر معروف
- شش اقسام
- ثلاثی مجرد
- ہفت اقسام
- مہموز الفاء
- قاعدہ
- علم الصیغہ میں ہے کہ کُلُوْا میں قلب مکانی ہوئ ہے یعنی: فاء کلمہ کو عین کلمہ اور عین کلمہ کو فاء کلمہ جگہ کر دیا تو اُکْئُلُوْا ہو گیا پھر مہموز کا یَسَلُ والا قاعدہ جاری ہوا یعنی: ہمزہ متحرک ماقبل حرف صحیح ساکن ہونے کی وجہ سے ہمزہ کی حرکت ماقبل کو دے کر ہمزہ کو حذف کردیا تو اُکُلوْا ہوگیا۔ پھر شروع میں ہمزہ وصلیہ کی ضرورت نہیں رہی تو ہمزہ وصلیہ گرا دیا تو کُلُوْا ہو گیا۔ دوسری تعلیل یہ ہے کہ اُءْکُلُوْا میں دوسرے ہمزہ کو کثرت استعمال کی وجہ سے گرا دیا اور شروع میں ہمزہ وصلیہ کی ضرورت نہ رہی تو ہمزہ وصلیہ گرگیا۔ تو کُلُوْا ہوگیا۔