قرآنی صیغہ

فَاتَّقُوْا

· آیت پارہ نمبر 1 ، سورة البقرة ، آیت نمبر 24 · پارہ 1

پارہ
1
آیت
پارہ نمبر 1 ، سورة البقرة ، آیت نمبر 24
اصل صورت
اِوْتَقِیُوْا بروزن اِجْتَنِبُوْا
اصلی حروف
و ، ق ، ی
صیغہ
جمع مذکر حاضر
مصدری معنی
بچنا ، ڈرنا
باب
اِفْتِعَالٌ
سہ اقسام
فعل امر حاضر معروف
شش اقسام
ثلاثی مزید فیہ
ہفت اقسام
لفیف مفروق
قاعدہ
مثال کا اِتَّھَبَ والا قاعدہ جاری ہوا یعنی: افتعال کے فاء کلمہ میں واؤ آنے کی وجہ سے واؤ کو تاء سے بدل کر پھر تاء کا تاء میں ادغام کردیا تو اِتَّقِیُوْا ہوگیا پھر ناقص کا خَشُوا والا قاعدہ جاری ہوا یعنی: لام کلمہ میں یاء مضموم ماقبل مکسور اور مابعد واؤ جمع ہونے کی وجہ سے یاء کی حرکت ماقبل کو دے کر یاء کو اجتماع ساکنین کی وجہ سے حذف کر دیا۔ تو اِتَّقُوْا ہوگیا۔ شروع میں فاء کے ساتھ ملایا تو فَاتَّقُوْاہو گیا۔

پارہ 1 کے مزید صیغے

اسی پارہ سے مزید قرآنی صیغے دیکھیں