متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
عقائد
1
اکثر لبرلز کی طرف سے یہ اعتراض سننے کو ملتا ہے کہ مولویوں کو جدید علوم خاص کر ٹیکنالوجی کے بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ یہ لوگ دنیاوی معاملات میں بالکل کورے اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہوتے ہیں۔ایسے لوگوں کو کیا جواب دینا چاہیئے؟
7 مئی، 2024مفتی محمد مدنی رضا
جواب دہندہ

یہ اعتراض عموما وہی لوگ کرتے ہیں، جو خود مولویوں سے جان چھڑا کر، دنیاوی علم حاصل کرنے کے بعد بھی ترقی نہیں کرسکتے اور اس کا ذمہ دار مولویوں اور علماء کو ٹھہراتے ہیں۔چلیں بالفرض قبول کرلیتے ہیں کہ مولویوں کوجدید علوم کا کچھ بھی معلوم نہیں، تو اس سے یہ کہاں لازم آتا ہے کہ لبرل بھی چاند پر نہ جاسکے؟
چلیں مان لیا مولوی نے ترقی کرنے کے خلاف سخت حرام ہونے کا فتوی دے دیا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ترقی کو کفر و حرام قرار دے دیا ہے۔ لیکن لبرل تو لبرل ہے، وہ کسی کا پابند ہی نہیں، جب وہ دیگر معاملات میں مولوی کے فتوے کو نہیں مانتا،تو ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والے فتوی کو کیوں مان کر ترقی سے پیچھے ہٹ رہا ہے؟۔۔۔
اگر ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کریں،تو معلوم ہوجائے گا کہ علماء اور مولویوں کے خلاف یہ باتیں، در حقیقت ان کی قلبی بھڑاس ہے، کیونکہ یہ دیسی لبرلز دنیا جہاں کے علوم کے پیچھے پڑنے کی ترغیب کے باوجود، ایک عرصہ تک خود چاند پر جا نہیں سکے اور اپنی اس شکست کو تسلیم کرنے سے خوفزدہ ہیں۔ لہذا الزام علماء اور مولویوں کے فتووں کودیتے ہیں۔جس سے خود بھی دین سے دور ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی کرتے ہیں۔چنانچہ ایک مثبت فکر رکھنے والے کو ان کی طرف سے ہونے والے اعتراضات سے فکر مند نہیں ہونا چاہیئے۔