متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
1
اگر کوئی شخص مغرب کی نماز میں آخری رکعت میں شامل ہو،تو وہ بقیہ رکعات کس طرح اداکرے گا،کیا اسےبقیہ دونوں رکعتوں میں قعدہ کرنا ہوگا۔
29 مئی، 2024مفتی محمد شعیب عباسی
جواب دہندہ
م
فوت شدہ رکعات ادا کرنےکے حوالے سے اصول یہ ہےکہ سلام پھیرنے کے بعد پہلی رکعت قراء ت کے اعتبار سے پہلی اورتشہد کے اعتبار سےامام کے ساتھ ادا کی گئی رکعات کی ترتیب کے مطابق شمار کی جائیں گی،یعنی امام کےساتھ اگرایک رکعت پڑھی ہو، تو اپنی پڑھتےوقت پہلی رکعت ، دوسری شمار ہوگی اور دوسری رکعت، تیسری شمار ہوگی۔
یہ اصول سمجھنے کے بعد مذکورہ سوال کا جواب یہ ہے کہ ،بقیہ دو رکعتوں میں فاتحہ اور سورت بھی ملانی ہوگی،کیونکہ قراءت کے اعتبار سے یہ دونوں پہلی اور دوسری رکعت ہیں اور پہلی اور دوسری رکعت میں قراءت کرنا ضروری ہے اوردونوں رکعات میں قعدہ کر کے تشہد بھی پڑھا جائے گا،کیونکہ تشہد کے اعتبار سے یہ دوسری اور تیسری رکعت ہےاور مغرب کی دوسری اور تیسری میں تشہد پڑھا جاتا ہے۔
ہاں ! اگرنمازی سلام کے بعد والی پہلی رکعت میں قعدہ نہ کرے، تب بھی اس کی نماز درست ہونے کا حکم دیا جائے گااور سجدہ سہو بھی واجب نہیں ہوگا،کیونکہ قراءت کے اعتبارسے یہ پہلی رکعت بھی ہے اور پہلی رکعت میں قعدہ نہیں ہوتا۔لیکن بہتر یہی ہے کہ سلام کے بعدوالی پہلی رکعت میں قعدہ کرے۔