متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
1
روزوں کی نیت کا وقت کیا ہے؟ ہم نے سنا ہے کہ بعض روزوں کی نیت رات میں ہی کرنا ضروری ہے جبکہ بعض روزوں کی نیت صبح بھی کی جا سکتی ہے، کیا یہ درست ہے؟
20 مئی، 2024محمد حنین سفیان
جواب دہندہ
م
جواب سے قبل اگر روزوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے تو بہتر ہے، چنانچہ قسمِ اول و قسمِ دوم دونوں میں پانچ طرح کے روزے شامل ہیں.
قسمِ اول میں ۱) ادائے رمضان کا روزہ، ۲) نذرِ معین (یعنی ایسی منت جو کسی خاص دن یا خاص وقت کے ساتھ خود پر لازم کی گئی ہو) ۳) نفلی روزہ، ۴) مسنون (جیسے 9 اور دس محرم کا روزہ) اور ۵) مکروہِ تنزیہی و مکروہِ تحریمی کے روزے (یعنی عید کے دن کا روزہ وغیرہ) شامل ہیں۔
ان تمام روزوں کی نیت کا وقت، غروبِ آفتاب سے لے کر وقتِ زوال تک ہے، اس دوران جب بھی نیت پائی جائے گی، روزہ ہو جائے گا، البتہ رات میں نیت کرنا مستحب ہے، نیز طلوع فجر کے بعد نیت کرنے کی صورت میں نیت و روزہ اسی وقت درست ہوگا ،کہ روزے کے خلاف کوئی کام نہ کیا ہواور صبح صادق سے روزہ دار ہونے کی نیت کرے،لہذا طلوع فجر کے بعد کچھ کھا ،پی لیا ---یا--- وقتِ نیت سے روزہ دار ہونے کی نیت کی تو روزہ درست نہ ہوگا۔
دوسری قسم میں ۱) قضائے رمضان کا روزہ، ۲) نذرِ غیرِ معین (یعنی ایسی منت جو کسی خاص دن یا خاص وقت کے ساتھ خود پر لازم نہ کی گئی ہو) ۳) نفل روزے کی قضاء، ۴) نذرِ معین کے روزے کی قضاء اور ۵) کفارے کا روزہ شامل ہیں۔
ان تمام روزوں کی نیت رات میں یا عین طلوعِ فجر کے وقت کرنا ضروری ہے۔