متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
جدید مسائل
1
سوال: مفتی صاحب سے میرا سوال یہ ہے کہ ایک پرائیوٹ بینک نے "اختیار اکاونٹ " کے نام سے ایک اکاونٹ متعارف کروایا ہے ، یہ کرنٹ اکاونٹ کی طرح ہی ہے ، اس میں کوئی اضافی رقم نہیں ملتی البتہ مختلف قسم کے منافع بینک دے رہا ہے ، جیسے انشورنس کی سہولت ، 5000 رقم رکھنے پر سروس چارجز معاف ہونگے ، 25000 ہزار رکھنے پر DEBIT CARD کی فیس نہیں لی جائے گی ، اتنی ہی اماونٹ رکھنے پر CHEQUE BOOK فری ہوگی۔ کیا یہ اکاونت ہم کھلواسکتے ہیں ؟
18 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
جواب: پرائیوٹ بینک کی جانب سے متعارف کروایا گیا یہ اکاونٹ سودی اکاونٹ ہی ہے کیونکہ اس اکاونٹ میں رکھی گئی رقم شرعی اعتبار سے قرض کا حکم رکھتی ہے ، اور اس پر بینک مختلف قسم کے مشروط منافع سہولیات کے نام پر دے رہا ہے جو کہ در حقیقت سہولیات نہیں ، خالص سود ہیں ۔ اور جو مشروط منافع ، قرض پر دئیے جاتے ہیں حدیث پاک میں اسے صراحۃ "سود" کہا گیا ہے ۔ حدیث پاک ہے : "کل قرض جرّ منفعۃ فھو ربو" اور وہ (مشروط)نفع جو قرض پر حاصل کیا جائے وہ سود ہے ۔ (کنزالعمال ، جلد 06، مطبوعہ بیروت)