متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
قربانی
1
سوال : اگر والد صاحب گھر کے سب افراد کی طرف سے قربانی کریں تو کیا قربانی ہوجائے گی جب کہ گھر کے بعض افراد صاحب نصاب بھی نہیں ہیں ؟
19 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
جواب : والد صاحب اپنی قربانی کرنے کے ساتھ ساتھ گھر کے دیگر افراد کی طرف سے ان کی اجازت سے قربانی کرتے ہیں تو ان کا یہ عمل جائز ہے ، قربانی ہوجائے گی اگر چہ گھر کے بعض افراد صاحب نصاب نہ ہوالبتہ اتنا خیال ضرور کیا جائے کہ گھر کے بالغ افراد سے واضح اجازت لے لی جائے یا انہیں پہلے ہی یہ معلوم ہو کہ والد صاحب ان کی طرف سے قربانی کرتے ہیں۔
نوٹ : بکرا/بکری، دنبہ/ بھیڑ ان میں صرف ایک ہی فرد شامل ہوسکتا ہے اور گائے ، اونٹ وغیرہ میں صرف سات افراد شامل ہوسکتے ہیں ، اس سے زیادہ شامل کئے گئے تو کسی کی قربانی نہیں ہوگی ۔
فتاوی عالمگیری میں ہے : وَلَيْسَ عَلَى الرَّجُلِ أَنْ يُضَحِّيَ عَنْ أَوْلَادِهِ الْكِبَارِ وَامْرَأَتِهِ إلَّا بِإِذْنِهِ، وَفِي الْوَلَدِ الصَّغِيرِ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - رِوَايَتَانِ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ تُسْتَحَبُّ وَلَا تَجِبُ بِخِلَافِ صَدَقَةِ الْفِطْرِترجمہ : کسی شخص کے لئے اپنی بالغ اولاد اور زوجہ کی طرف سے بغیر ان کی اجازت کے قربانی کرنا جائز نہیں ہے اور نابالغ اولاد کی طرف سے قربانی کرنے کے حوالے سے امام اعظم علیہ الرحمہ کے دو قول ہیں ، ظاہر الروایہ کے مطابق کہ نابالغ اولاد کی طرف سے قربانی کرنا مستحب ہے واجب نہیں ہے البتہ صدقہ فطر نابالغ کا ادا کرنا والد پر واجب ہے ۔