متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
1
فرائض مسجد میں ادا کئے جائیں لیکن سنن و نوافل کی ادائیگی گھر میں کی جائے اور اسی کا معمول ہو،تو یہ طریقہ درست ہے یا نہیں ؟
10 جون، 2024مفتی محمد شعیب عباسی
جواب دہندہ
م
اس حوالے سے خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہء کرام رضوان اللہ علیھم کا عمل مبارک یہی تھا کہ آپ حضرات سنن و نوافل گھر میں ہی ادا فرماتے تھے،البتہ ہمارے معاشرے میں سنن و نوافل بھی مساجد میں ادا کرنے کا معمول ہے،اب اگرکوئی شخص مسجد میں سنتیں ادا نہ کرے ،تو لوگوں کی جانب سے بدگمانی و طعن و تشنیع کا سامنا ہو سکتا ہے،
لہذا فی زمانہ سنن و نوافل کی ادائیگی مسجد میں ہی کی جائے،نیز خاص کر وہ افراد جو دینی اعتبارسے پہچان رکھتے ہیں،انہیں اس حوالے سے زیادہ احتیاط کرنی چاہیئے۔