متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
فزیکل کاروبار کے مساٸل
1
مفتی ساحب سے میرا یہ سوال ہے کہ میرے گھر والے قریب ہی راشن کی دکان سے خریدوفروخت کرتے رہتے ہیں ، میں نے آسانی کے لئے ایسا کیا ہے کہ اس دکاندار کو پہلے ہی 5000 دے دیتا ہوں اور کہہ دیتا ہوں کہ میرے گھر والے جو لینا چاہیں انہیں دیتے رہنا اور اس میں رقم minus کرتے رہنا ، کیا میرا ایسا کرنا جائز ہے ؟
12 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
بیان کیا گیا طریقہ درست نہیں ہے کیونکہ خریدو فروخت کے اصول میں یہ ہے کہ مبیع متعین ہو اور ریٹ معلوم ہو یہاں نہ مبیع کا تعین ہے اور نہ ہی مبیع کا ریٹ ، اور ریٹ کا معاملہ تو اایسا ہے کہ یہ بدلتا بھی رہتا ہے ، اور عمومی طور پر ایسا ہی ہوتا ہے کہ دکاندار اصل مالک کو اطلاع نییں کرتا، اپنے ریٹ کے مطابق چیز دے دیتا ہے لہذا یہ طریقہ جائز نہیں ہے نیز اس کے عدم جواز کی دوسری وجہ یہ ہے کہ فقہائے کرام نے باتصریح اس طریقے کار کی ممانعت فرمائی ہے ۔
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : "پنساری کو روپیہ دیتے ہیں اور یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ روپیہ سودے میں کٹتا رہے گا یا دیتے وقت یہ شرط نہ ہو کہ سودے میں کٹ جائے گا مگر معلوم ہے کہ یونہی کیا جائے گا تو اس طرح روپیہ دینا ممنوع ہے کہ اس قرض سے یہ نفع ہوا کہ اس کے پاس رہنے میں اس کے ضائع ہونے کا احتمال تھا اب یہ احتمال جاتا رہا اور قرض سے نفع اٹھانا ناجائز ہے۔“(بہارِ شریعت،ج3،ص481)