متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
قرآن و حدیث
1
ثواب کی نیت سے صرف تین مساجد کی طرف سفر کرنا جائز ہے ،اس مفہوم والی حدیث کی وضاحت فرمائیں ،نیز کیا اس حدیث کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر اولیاء کے مزارات پر زیارت کی نیت سے سفر کرنا حرام ہے ؟
24 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
سائل نے جس حدیث پاک کی طرف اشارہ کیا وہ حدیث صحاح ستہ اور اس کے علاوہ کئی کتب احادیث میں موجود ہے۔اس حدیث پاک میں سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مطلقاً ہر طرح کے سفر سے منع نہیں فرمایا بلکہ ایک مخصوص قسم کے سفر سے منع کیا ہے اور اس مخصوص سفر سے مراد یہ ہے کہ نماز پڑھنے کے لئے ایک مسجد کو چھوڑ کر دوسری مسجد کی طرف فقط یہ سمجھ کرجانا کہ دوسری مسجد میں ثواب زیادہ ملے گا، یہ ممنوع ہے ،وجہ اس کی یہ ہے کہ تین مساجد کے علاوہ بقیہ مساجد میں نمازوں کا ثواب فی نفسہ برابر ہے لہٰذا وہاں ثواب کی زیادتی کی نیت سے سفر کرنا محض لغو و فضول ہوگا۔حدیث کے اس معنی کی تائید مسند احمد والی روایت سے ہوتی ہے کہ اس میں اس چیز کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ سفر سے مراد دوسری مسجد کی طرف نماز پڑھنے کے لئے کیا جانے والا سفر ہے۔
نیز حدیث پاک سے اگر مذکورہ بالا مخصوص سفر مراد نہ لیا جائے بلکہ مطلقاً ہر طرح کا سفر مراد لیاجائے توپھر سفرِ جہاد،سفرِ حج، سفر بغرض طلبِ علم دین، سفرِتجارت، سفر بغرض صلہ رحمی وغیرہ بھی ناجائز ہو جائیں حالانکہ ان امور کے لئے سفر کرنا نہ صرف جائز بلکہ کبھی واجب اور کبھی فرض بھی ہوتا ہے جو کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور ہر مسلمان کو معلوم ہے۔اوراگر ان سب قسم کے سفروں کو ناجائز مان لیا جائے تو دین و دنیا کا نظام درہم برہم ہو جائیگا۔
جب عقلی و نقلی اعتبار سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ یہاں کسی مسجد کی طرف بغرض نماز کیا جانے والا سفر ہی مراد ہے تو پھر اس حدیث کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے روضہ مبارکہ کی زیارت کے لئے سفر کرنے کو یا اولیاء و صالحین کے مزارات پر حاضری دینے کے لئے سفر کرنے کو ناجائز کہنا، سراسر جہالت و باطل ہے جیسا کہ محدثین کرام وشارحینِ حدیث نے اس بات کو بالکل واضح طور پربیان کیا ہے۔