Logo
السلام علیکم ورحمۃ اللہ مفتی صاحب کی بارگاہ میں سوال یہ ہے کہ ایک عورت کے چھ بچے ہیں پہلے اور اب اس کو حمل ٹھہر گیا ہے اور حمل تقریبا 15 20 دنوں کا ہے اور پوچھنا یہ ہے کہ کیا وہ اس حمل کو ساکت کروا سکتی ہے ایک مہینے کے اندر اندر جیسا کہ اب 15 سے 20 دنوں کا حمل ہے تو اس کو ساکت کروانا جائز ہے کیونکہ اس کے پہلے بھی چھ بچے ہیں پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا اور غریبی کا دور ہے شوہر محنت مزدوری کر کے کماتا ہے کوئی روزگار کا باقاعدہ ذریعہ نہیں ہے اس وجہ سے پوچھنا ہے کہ کیا وہ حمل ساکت کروا سکتے ہیں اس سے گنہگار تو نہیں ہوں گے