متعلقہ موضوعات
نکاح و طلاق کے مساٸل
1
السلام علیکم ورحمۃ اللہ مفتی صاحب کی بارگاہ میں سوال یہ ہے کہ ایک عورت کے چھ بچے ہیں پہلے اور اب اس کو حمل ٹھہر گیا ہے اور حمل تقریبا 15 20 دنوں کا ہے اور پوچھنا یہ ہے کہ کیا وہ اس حمل کو ساکت کروا سکتی ہے ایک مہینے کے اندر اندر جیسا کہ اب 15 سے 20 دنوں کا حمل ہے تو اس کو ساکت کروانا جائز ہے کیونکہ اس کے پہلے بھی چھ بچے ہیں پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا اور غریبی کا دور ہے شوہر محنت مزدوری کر کے کماتا ہے کوئی روزگار کا باقاعدہ ذریعہ نہیں ہے اس وجہ سے پوچھنا ہے کہ کیا وہ حمل ساکت کروا سکتے ہیں اس سے گنہگار تو نہیں ہوں گے
3 نومبر، 2024Abdul Qudoos
Abdul Qudoos
A
جواب : سوال میں ذکر کی گٸی وجہ حمل کو ساقط کرنے کی لٸے عذر شرعی نہیں ہے ،لہذا حمل کو گرانے کی اجازت نہیں ہے رزق کا ضامن اللہ پاک ہے ، بندہ نہیں، باقی بچوں کو بھی اللہ پاک ہی رزق دیتا ہے ۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب۔