متعلقہ موضوعات
خواتین کے مساٸل
1
سوال : مفتی صاحب یہ ارشاد فرمادیجٸے کیا اگر کوٸی عورت کسی بچے کو جس کی عمر تین سال سے زاٸد ہے دودھ پلاتی ہے ، تو کیا وہ اس کا رضاعی بیٹا ہوگا؟ نیز اس عورت کا ایسا کرنا کیسا؟
1 نومبر، 2024Abdul Qudoos
Abdul Qudoos
A
جواب : اسلامی تاریخ کے اعتبار سے بچے کو دودھ پلانے کی عمر کی حد دو سال ہے ، دوسال کے بعد بچے کو اگر کسی عورت نے دودھ پلایا تو وہ گنہگارہوگی۔ البتہ ثبوت رضاعت کے لٸے شریعت نے زیادہ سے زیادہ ڈھاٸی سال کہ عمر مقرر کی ہے یعنی اگر کوٸی کسی بچے کو دو سال کے بعد اور اس کے ڈھاٸی برس کا ہونے تک کے عرصے میں دودھ پلاتی ہے تو رضاعت ثابت ہوجاۓ گی اور یہ عورت گنہگار بھی ہوگی کہ دو سال سے زاٸد عمر کے بچے کو دودھ پلایا۔ سوال میں تین سال سے زاٸد عمر کے بچے کا ذکر ہے ، ایسے بچے کو دودھ پلانے سے رضاعت کا حکم ثابت نہیں ہوگا البتہ عورت گنہگار ضرور ہوگی ، اسے توبہ کرناہوگی۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب