متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
عقائد
1
سوال 01: کیا یہ جملہ " اللہ ہر جگہ موجود ہے " شرعاً درست ہے ؟
15 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
جواب : یہ جملہ ہمارے معاشرے میں بہت عام ہوتا جارہا ہے، بالخصوص لاعلمی کی بنیاد پر والدین اپنے چھوٹے بچوں کو یہ جملہ سکھاتے ہیں ، علمائے کرام نے اس جملے کو بولنے کی سختی سے ممانعت فرمائی ہے ، حتی کے اس جملے کے ظاہری معنی کا نظریہ رکھتے ہوئے کسی نے کہا تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجائیگا کیونکہ اللہ پاک مکان (place) سے پاک ہے اور اس جملے میں اللہ رب العزت کے لئے مکان کا ثبوت ہوتا ہے نیز اسی جملے سےاللہ پاک کے لئے سمت (direction) اور جسم کا بھی ثبوت ہوتا ہے المختصر یہ جملہ کئی طرح کی برائیاں اپنےضمن میں لئے ہوئے ہے لہذا (جس نے اعتقاداً یہ جملہ کہا ) ایسے شخص پر توبہ و تجدید ایمان لازم ہوگا نیز نکاح بھی تھا تو وہ بھی ختم ہوگیا ، اب تجدید نکاح بھی لازم ہوگا۔
نوٹ :بچوں کو والدین اللہ رب العزت کی ذات پاک کے لئے یہ جملہ سکھائیں " اللہ پاک کا علم و قدرت ہر جگہ ہے"
امام برھان الدین حضرت علامہ سعد الدین التفتازانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ولا یتمکن فی مکان ۔۔۔واذا لم یکن فی مکان لم یکن فی جھۃترجمہ : اللہ پاک کسی مکان میں موجود ہونے سے پاک ہے ؛ جب ذات باری تعالی کے لئے مکان نہیں تو ثابت ہوا کہ اللہ پاک جہت(direction) سے بھی پاک ہے۔ (شرح عقائد نسفیہ ، صفحہ 130، مکتبۃ المدینہ)
علامہ شیخ زین الدین بن ابراہیم المعروف ابن نجیم الحنفی فرماتے ہیں : یُکفَّر۔۔باثبات المکان لِلّٰہ تعالیٰ ترجمہ : جس نے اللہ پاک کے لئے مکان کو ثابت مانا اس کی تکفیر کی جائیگی ۔
( البحرالرائق جلد 05صفحہ 202 مطبوعہ بیروت)