متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
عقائد
1
سوال 03: "اللہ کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں" اس جملے کا حکم شرعی بیان فرمادیجئے؟
15 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
جواب : اللہ تبارک و تعالیٰ کے لئے صرف انہی ناموں کا یا صرف انہی صفات کا استعمال کیا جائے جو قرآن و حدیث و اسلاف سے منقول ہیں۔ یہ جملہ اگر چہ کفریہ نہیں ہے مگر اللہ پاک کے لئے ان لفظوں کا استعمال کرنا علمائے کرام نے صراحۃ منع فرمایا ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان لفظوں کا استعمال قرآن و حدیث میں نہیں ملتا ،دوسری وجہ کہ ان لفظوں کے معنی لغوی بھی شان باری تعالی کے مناسب نہیں ؛ خلاصہ کلام یہ کہ اللہ پاک کے لئے ان الفاظ کا استعمال نہ کیا جائے البتہ ان لفظوں کی جگہ یہ کہا جائے کہ "اللہ پاک شھید و بصیر " ہے
اللہ تبارک و تعالی کے لئے حاضر و ناظر کے الفاظ استعمال کرنے سے متعلق حضرت علامہ مفتی محمد وقار الدین علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں : "حاضر و ناظر کےجو معنی لغت میں ہیں ان کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی ذات پر ان الفاظ کا بولنا جائز نہیں ہے ،حاضر کے معنی عربی لغت کی معروف و معتبر کتب "المنجد" اور "مختار الصحاح" وغیرہ میں یہ لکھے ہیں نزدیکی، صحن ، حاضر ہونے کی جگہ ، جو چیز کھلم کھلا بے حجاب آنکھوں کے سامنے ہو اسے حاضر کہتے ہیں اور ناظر کے معنی " مختارالصحاح" میں آنکھ کے ڈھیلے کی سیاہی جبکہ نظر کے معنی کسی امر میں تفکر و تدبر کرنا ، کسی چیز کا اندازہ کرنا ، اور آنکھ سے کسی چیز میں تأمّل کرنا لکھے ہیں ،ان دونوں لفظوں کے لغوی معنی کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کو پاک سمجھنا واجب ہے ، بغیر تاویل ان الفاظ کو اللہ تعالیٰ پر نہیں بولا جاسکتا اسی لئے اسماء الحسنیٰ میں حاضر و ناظر بطور اسم یا صفت شامل نہیں ہیں قرآن و حدیث میں یہ الفاظ اللہ تعالیٰ کے لئے آئے ہیں اور نہ ہی صحابہ کرام و تابعین یا ائمہ مجتہدین نے یہ الفاظ اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال کئے ہیں
(وقار الفتاوی جلد 01، صفحہ 66 مطبوعہ کراچی)