متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
عقائد
1
سوال 04:اللہ رب العزت کے لئے لفظ" بھگوان " یا لفظ " رام " کہنا کیسا ؟
15 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
جواب : لفظ" بھگوان" اور لفظ"رام " یہ کفار کے اپنے معبودان باطلہ و فاسدہ کو پکارنے کے لئے مقرر کئے گئے نام ہے،اور انہی کا یہ شعار بھی ہیں ، حتی کے لفظ "رام " کے حوالے سے علمائے کرام نے لکھا کہ اللہ رب العزت کے لئے اس لفظ کا استعمال کفر ہے، کیونکہ لفظ رام کے معنی ہیں حلول کیا ہوااور یہ معنی شان باری تعالی کی عظمت و رفعت کے خلاف ہے ،اسی طرح لفظ بھگوان یہ دو لفظواں کا مرکب ہے بھگ کا مطلب ہے "عورت کی شرمگاہ" اور وان کا مطلب ہے" والا " لہذا جو شخص اس لفظ کے معنی جانتے ہوئے اللہ تبارک وتعالیٰ کے لئے استعمال کرے گا وہ کافر ہوجائیگا ، اس پرتجدید ایمان لازم ہوگا ، صاحب نکاح ہے تو وہ بھی ختم ہوگیا اور تجدید نکاح بھی لازم ہوگا البتہ اگر کوئی اس کے معنی نہیں جانتا اور پھر اللہ پاک کے لئے اس نے ان لفظوں کا استعمال کیا تو یہ قائل کافر نہیں ہوگا مگر یہ قول کفر ہی ہے اس لئے اس لاعلم شخص پر بھی توبہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح لازم ہوگا ؛ لہذا ہر گز کسی مسلمان کو یہ روا(جائز) نہیں کے وہ اللہ تبارک و تعالی کو ان ناموں سے پکارے بلکہ انہی اسماء سے ذات باری تعالی کو یاد کرے جن کاتذکرہ قرآن و حدیث میں موجود ہے ۔
شارح بخاری حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ اسی طرح کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : بھگوان اور رام کے جو حقیقی معنی ہیں ان پر مطلع ہوتے ہوئے جو شخص اللہ عزوجل کو بھگوان یا رام کہے وہ بلاشبہہ کافر و مرتد ہے اس کے تمام اعمال حسنہ اکارت ہوگئے اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل گئی اس پر فرض ہے فوراً اس سے توبہ کرے پھر سے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو اور اپنی بیوی کو رکھنا چاہتا ہے تو پھر تجدید نکاح کرے۔
(فتاوی شارح بخاری، جلد 01، صفحہ 171 مطبوعہ کراچی)