متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
فزیکل کاروبار کے مساٸل
1
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائےکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عام طور پر رائج ہے کہ جب ایک شخص کسی سے کوئی مال خریدتا ہےتو وہ بیچنے والے کو کچھ رقم بیعانہ دیتاہے پھر کسی وجہ سے وہ دونوں آپس میں بیع ختم کردیتے ہیں تو بیچنے والا بیعانہ کی رقم ضبط کرلیتا ہے خریدار کو واپس نہیں کر تااس کا ایسا کرنا کیساہے ؟
29 ستمبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
یہ ہمارے نظام میں ایک بڑی خرابی ہے کہ کسی وجہ سے بھی سودا ختم کیا جاتا ہے اب یہ سودا بیچنے والا ختم کرے تو اسے کہا جاتا ہے کہ جو رقم ایڈوانس دی تھی، اس میں اضافہ کرکے رقم واپس کرو، اور خریدنے والا سودا ختم کرے تو بیچنے والا اسے کہتا ہے کہ مارکیٹ اصول کے مطابق ایڈوانس رقم واپس نہیں دی جاۓ گی۔ یہ دونوں انداز غیرشرعی ہیں اور ظلم ہے۔
امام اہلسنت اسی بات کو بیان کرتےہوۓ لکھتے ہیں : بیع نہ ہونے کی حالت میں بیعانہ ضبط کر لینا جیسا کہ جاہلوں میں رواج ہے ظلمِ صریح ہے۔“ (فتاوی رضویہ،ج17،ص94)
فتاوی فیض رسول میں بھی اسی طرح کے سوال کا جواب دیتے ہوۓ فقیہ ملت لکھتے ہیں : سودا ختم ہو جانے پربیعانہ ضبط کرنا ،ناجائز و گناہ اور ظلم ہے۔ (فتاوی فیض رسول ج 03 ص 126)
واللہ تعالی اعلم بالصواب